مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کی بیرونی فنڈنگ کا انکشاف

مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کی بیرونی فنڈنگ کا انکشاف

Jul 5, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی – بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں کام کرنے والی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس کے ذیلی نیٹ ورکس کے خفیہ بیرونی فنڈز ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ بھارتی جریدے دی وائر، فرنٹ لائن اور دی ٹیلی گراف کی رپورٹس کے مطابق، ان خفیہ فنڈز کی بدولت ہندوتوا نظریے کو پورے بھارتی معاشرے پر مسلط کیا جا رہا ہے جس سے سیکولر بھارت کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔


حکومتی حلقوں کی اہم ترین شخصیات کی آر ایس ایس کے ساتھ وفاداری کے باعث اس غیر رجسٹرڈ تنظیم کو قانون سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔


امریکہ اور یورپ سے لاکھوں ڈالر کی منتقلی: 'دی وائر' کے سنسنی خیز انکشافات

بین الاقوامی جریدے دی وائر کی تحقیقاتی رپورٹ میں آر ایس ایس کے عالمی فنڈنگ نیٹ ورک کی تفصیلات منظر عام پر لائی گئی ہیں:


امریکی فنڈز کا استعمال: امریکہ میں قائم 'انڈین ڈیولپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ' (IDRF) نے 1995ء سے 2002ء تک آر ایس ایس کو لاکھوں ڈالر منتقل کیے۔


فلاح و بہبود کا ڈھونگ: بیرون ملک فعال ہندوتوا تنظیمیں ریلیف اور فلاحی کاموں کے نام پر چندہ اکٹھا کرتی ہیں اور بعد میں یہ سرمایہ آر ایس ایس کے انتہا پسند ایجنڈے کے لیے بھارت بھیج دیا جاتا ہے۔


قوانین کا دوہرا معیار: مودی حکومت نے عام فلاحی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف بیرونی فنڈنگ کے نام پر سخت ترین کارروائیاں کی ہیں، جبکہ آر ایس ایس کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔


"امریکہ، برطانیہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں سرگرم انتہا پسند ہندو تنظیموں نے فنڈز کی منتقلی کے لیے انتہائی خفیہ اور پیچیدہ راستے بنا رکھے ہیں۔"

— راجو پارولیکر، بھارتی سیاسی تجزیہ نگار


H2: گجرات عیسائی تشدد اور 2002ء کا مسلم قتلِ عام

تحقیقاتی دستاویزات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بیرونی فنڈز سے لیس ان ہندوتوا تنظیموں کا ماضی پرتشدد کارروائیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ریاست گجرات میں عیسائیوں پر منظم تشدد اور 2002ء میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام میں ان تنظیموں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید دستاویزی ثبوت موجود ہیں، جنہیں حکومتی سرپرستی کی وجہ سے دبا دیا گیا۔


H2: تعلیمی اداروں کا گھیراؤ: ڈھائی لاکھ نوجوانوں تک رسائی کا ہدف

آر ایس ایس نے اب اپنا دائرہ کار بھارت کے پڑھے لکھے طبقے تک پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی جریدے دی ٹیلی گراف نے مغربی بنگال میں ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثرات پر ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے:


ہدف پاپولیشن: مغربی بنگال میں ڈھائی لاکھ نوجوانوں کو انتہا پسند قوم پرست نظریے کی طرف مائل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔


ٹارگٹڈ تعلیمی ادارے: اس مہم کے لیے خاص طور پر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کے طلبہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کے پروفیشنلز میں نفرت کا زہر گھولا جا سکے۔


رجسٹریشن سے فرار: احتساب سے بچنے کا حربہ

آر ایس ایس کی سب سے بڑی مصلحت یہ ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے خود کو بطور تنظیم رجسٹرڈ کروانے سے انکاری ہے۔ اس قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر وہ کسی بھی قسم کے فنانشل آڈٹ سے بچ نکلتی ہے۔


بھارتی تجزیہ کار ڈاکٹر پنکج شریواستو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ:


"آر ایس ایس رجسٹریشن سے صرف اس لیے فرار اختیار کرتی ہے کیونکہ اسے خوف ہے کہ اگر اس کے فنڈنگ کے خفیہ ذرائع اور بینک اکاؤنٹس بے نقاب ہو گئے تو اس کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بغیر کسی جوابدہی کے معاشرے میں نفرت پھیلانے میں مصروف ہے