مودی حکومت کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی ہوئی تحریک سے خوفزدہ
سونم وانگچک کی زبردستی ہسپتال منتقلی اور ابھیجیت دپکے پر حملے کے بعد احتجاج میں شدید تیزی
نئی دہلی: بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف نوجوانوں کی سوشل میڈیا تحریک "کاکروچ جنتا پارٹی" ایک طاقتور سیاسی لہر میں تبدیل ہو گئی ہے، جس سے مودی حکومت سخت دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔
عالمی جریدے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معروف معروف انسانی حقوق اور ماحول دوست کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے دوران زبردستی ہسپتال منتقلی کے بعد ملک گیر احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے۔
بانی کاکروچ جنتا پارٹی پر حملہ اور اپوزیشن کا اتحاد
تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کے ساتھ یکجہتی کے طور پر بھوک ہڑتال شروع کی تو ان پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی۔ اس واقعے کے بعد عوامی غصے میں اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیکل رپورٹ کی عدم فراہمی: سونم وانگچک کی اہلیہ نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ "حکومت ہمیں سونم کی میڈیکل رپورٹ فراہم نہیں کر رہی اور ہمیں سرکاری ہسپتال پر بالکل اعتماد نہیں ہے۔"
اپوزیشن کا شدید ردعمل: انڈین ایکسپریس کے مطابق سونم وانگچک کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھارتی اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر مودی حکومت پر برس پڑی ہیں۔
آن لائن مذاق سے سیاسی جدوجہد تک کا سفر
برطانوی تجزیہ نگار ہنّا ایلس پیٹرسن کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کی شروعات ایک آن لائن مذاق اور طنز کے طور پر ہوئی تھی، لیکن اب یہ بھارت کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا جذبہ اور اپوزیشن کا مشترکہ موقف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مودی سرکار کے آمرانہ اقدامات کے خلاف مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے