بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ کے خلاف مودی سرکار کا بڑا وار

اترپردیش میں 1000 سال قدیم تاریخی 'گنجِ شہیداں مسجد' کو مسمار کرنے کا نوٹس جاری، عالمی سطح پر شدید تشویش

وارانسی/اسلام آباد (ویب ڈیسک): بھارت میں برسرِ اقتدار بی جے پی کی ہندوتوا قیادت کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی وجود کو مٹانے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ نامور بھارتی جریدے 'مسلم مرر' کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ریاست اترپردیش (یوپی) کے تاریخی شہر وارانسی میں قائم 1000 سال قدیم 'گنجِ شہیداں مسجد' کو مسمار کرنے کا باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ مودی سرکار کے اس اقدام کو خطے میں ہندوتوا ایجنڈے کی تکمیل اور مسلم شناخت پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔


45 دنوں میں 23 سے زائد مساجد اور مدارس زمین بوس، عالمی برادری کا ردعمل

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، انتہا پسند بی جے پی حکومت نے گزشتہ 45 دنوں کے دوران مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور درگاہیں مسمار کر دی ہیں۔


جریدے 'مسلم مرر' اور انسانی حقوق کے اداروں کے اہم ترین انکشافات:


مقدس مقامات پر کریک ڈاؤن: ہندوتوا سرکار نے 1000 سال پرانی مسجد سے لے کر 200 سال پرانی درگاہ تک، تمام اہم مسلم مذہبی مقامات کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے۔


حالیہ مسماری کے اعداد و شمار: مئی سے اب تک کے مختصر عرصے میں بی جے پی انتظامیہ کی جانب سے مجموعی طور پر 20 سے زائد ایسے مذہبی مقامات منہدم کیے جا چکے ہیں جن میں مساجد اور مدارس شامل ہیں۔


سنبھل کا واقعہ: اترپردیش ہی کے شہر سنبھل میں قائم ایک 600 سال پرانی تاریخی درگاہ کو عدالت سے ریلیف نہ ملنے کے فوراً بعد بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا۔


بین الاقوامی ردعمل اور مذمت

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری:

صدرِ پاکستان نے گنجِ شہیداں مسجد کو لاحق خطرات اور مسماری کے نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ:

"بھارت ایسی مسلم دشمن کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور اپنی حدود میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق سمیت مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنائے۔"


جسٹس فار آل (انسانی حقوق کی عالمی تنظیم):

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'جسٹس فار آل' نے بھی بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کی دانستہ مسماری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔