اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (NAB) نے منی لانڈرنگ کے خلاف ایک انتہائی اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 1 ارب 25 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) مالیت کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق یہ اثاثہ جات مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع اور ہنڈی/حوالہ کے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقل کیے گئے تھے۔
احتساب عدالت کراچی کی منظوری: احمد علی ریاض اور مبشرہ ملک کے اکاؤنٹس ہدف
نیب کے معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی احتساب عدالت کراچی کی باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
نیب نے ماریشس کے 'سلور بینک' (Silver Bank) میں موجود دو ایسے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس کو منجمد کیا ہے جو بحریہ ٹاؤن کے مالکان/انتظامیہ سے منسلک ملزمان احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔
حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کا انکشاف: منتقلی کا طریقہ کار
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر جرائم سے حاصل شدہ رقوم (Proceeds of Crime) کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے کے لیے ایک پیچیدہ روٹ کا انتخاب کیا:
پہلا مرحلہ: پاکستان سے رقوم کو غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کے ذریعے پہلے متحدہ عرب امارات (UAE) منتقل کیا گیا۔
دوسرا مرحلہ: یو اے ای سے ان رقوم کو منی لانڈرنگ کی مختلف تہوں (Layering) کے ذریعے ماریشس پہنچایا گیا۔
تیسرا مرحلہ: ماریشس کے سلور بینک میں ان رقوم کو ملزمان کے مشترکہ بینک اکاؤنٹس (Joint Accounts) میں جمع کروا دیا گیا۔
اکاؤنٹس کی موجودہ مالیت: نیب ذرائع کے مطابق ان منجمد کیے گئے اکاؤنٹس میں اس وقت 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں، جنہیں بین الاقوامی اثاثہ جات کی بازیابی (Asset Recovery) کے جاری عمل کے تحت قانونی طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
رقم کی پاکستان واپسی کے لیے وزارتِ خارجہ متحرک
نیب حکام کا کہنا ہے کہ ماریشس کی حکومت اور متعلقہ بینکنگ حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور اس رقم کو پاکستان واپس لانے کے لیے وزارتِ خارجہ کے ذریعے باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مذکورہ رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات اب آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ کارروائی ادارے کے اس پختہ ارادے کا مظہر ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے قومی اثاثوں کا دنیا بھر میں تعاقب کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعاون (Mutual Legal Assistance) کے ذریعے ملکی دولت کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔