بحری اصلاحات ٹاسک فورس کی اہم پیش رفت، بندرگاہی شعبے میں بڑے اصلاحاتی اقدامات
نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز کا قیام؛ کراچی پورٹ سے تجاوزات کا خاتمہ اور یکساں ٹیرف نافذ
اسلام آباد — وزیر اعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے ملک کی بلیو اکانومی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔ دسمبر 2024 میں قائم کی گئی 'اصلاحاتی عملدرآمد کمیٹی' نے محض ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کردہ 99 میں سے 85 اہم ترین ایکشن پوائنٹس پر کامیابی سے عملدرآمد مکمل کر لیا ہے۔
اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی میں وزارتِ دفاع، بحری اور لاجسٹکس شعبوں بشمول این ایل سی کے ممتاز ماہرین اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان شامل ہیں۔ کمیٹی نے بندرگاہوں کے ماسٹر پلان، جہاز رانی، جہاز سازی، شپ ری سائیکلنگ اور ماہی گیری سے متعلق شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔
بحری اصلاحات کے اہداف کی موجودہ صورتحال
ٹاسک فورس کی جانب سے مجموعی طور پر 99 اصلاحات کی سفارشات پیش کی گئی تھیں، جن کی موجودہ کارکردگی کی تفصیل درج ذیل ہے:
مکمل شدہ نکات: 85 ایکشن پوائنٹس پر سو فیصد عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے۔
تکمیل کے آخری مراحل: 11 نکات اس وقت فائنل مراحل میں داخل ہیں۔
طویل المدتی حکمتِ عملی: بقیہ 3 نکات پر مستقل اور دور رس پالیسی کے تحت کام جاری ہے۔
اہم ترین کامیابی: اصلاحات کے باعث پاکستان نے بندرگاہوں کی ڈریجنگ کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 'نیشنل ڈریجنگ اینڈ میرین سروسز' قائم کر دی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
اہم شعبہ جات میں انقلابی اصلاحات اور دور رس نتائج
اس تاریخی اصلاحاتی عمل کے ذریعے بندرگاہوں کی استعداد کار میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے اور برسوں پرانے انتظامی مسائل کو حل کیا گیا ہے۔
پالیسی اور آپریشنل کامیابیاں
پورٹ مینجمنٹ: قومی بندرگاہوں کے لیے جامع ماسٹر پلان کی تیاری کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں یکساں پورٹ ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی مسابقت کو فروغ ملے۔
تجاوزات کا خاتمہ اور کسٹمز قوانین: کراچی پورٹ کی قیمتی اراضی سے غیر قانونی تجاوزات کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ٹرانس شپمنٹ اور بنکرنگ کے لیے جدید کسٹمز رولز متعارف کرائے گئے ہیں۔
صنعتی بحالی: صوبائی سطح پر ماہی گیری کے فروغ کے لیے 5 سالہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے، جبکہ 8 سال کے طویل تعطل کے بعد ملک میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
ان اصلاحات کی بدولت پاکستان کی بندرگاہیں اب بین الاقوامی لاجسٹکس اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور محفوظ ہو چکی ہیں، جو علاقائی تجارت میں پاکستان کے مرکزی کردار کی ضامن بنیں گی۔