اسلام آباد: ملک میں ڈیجیٹل معیشت اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی معاونت سے اہم ترین پالیسی اور مالیاتی اصلاحات متعارف کرا دی گئی ہیں، جس سے فری لانسنگ اور آئی ٹی سیکٹر کو نئی جلا ملی ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران، ایس آئی ایف سی کی خصوصی مہم کے نتیجے میں آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے کاروبار دوست ماحول اور ریگولیٹری سہولتوں کو فروغ ملا ہے۔
فارن کرنسی اکاؤنٹس کی حد میں 50 فیصد تک اضافہ
ایس آئی ایف سی کی کلیدی معاونت کے باعث آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رقوم برقرار رکھنے کی حد کو 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے آئی ٹی برآمد کنندگان کو اپنی فارن کرنسی آمدن کے استعمال میں مزید خودمختاری حاصل ہو گئی ہے۔
علاوہ ازیں، فارن کرنسی اکاؤنٹس پر ریگولیٹری پابندیوں میں نرمی اور خصوصی ڈیبٹ کارڈز کے اجرا سے بین الاقوامی ادائیگیاں انتہائی آسان بنا دی گئی ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کی لاگت اور وقت کی بچت ہوگی۔
فری لانسرز کے لیے نیا اور آسان بینکنگ فریم ورک
ملکی تاریخ میں پہلی بار فری لانسرز کے لیے ایک نیا بینکنگ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بینکنگ سہولتوں کی فراہمی اور اکاؤنٹ اوپننگ کے عمل کو انتہائی سادہ اور تیز رفتار بنا دیا گیا ہے، تاکہ دور دراز علاقوں میں بیٹھے دستاویزی معیشت سے دور فری لانسرز بھی باآسانی بینکاری نظام کا حصہ بن سکیں۔
"ایس آئی ایف سی کے ان تاریخی اقدامات نے نہ صرف آئی ٹی برآمدات بڑھانے کی راہ ہموار کی ہے بلکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ لانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔"
مالی سال 2026 میں فری لانسرز کی آمدن 95 کروڑ ڈالر سے متجاوز
ان مالیاتی اصلاحات کے مثبت نتائج اعداد و شمار میں بھی نمایاں ہیں۔ جاری مالی سال 2026 (FY26) کے پہلے 10 ماہ کے دوران ہی پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر (959 ملین ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جو ملکی معیشت میں آئی ٹی سیکٹر کے کلیدی کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے