لاہور میں ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار، ملی رکشہ یونین کا مظاہرہ

لاہور میں ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار، ملی رکشہ یونین کا مظاہرہ

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

رکشہ ڈرائیوروں کا سڑک پر سلنڈر رکھ کر احتجاج، اوگرا کے مقررہ نرخوں پر گیس فراہمی کا مطالبہ

لاہور — پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی شعبہ ’ملی رکشہ یونین‘ کے زیر اہتمام لاہور کے مصروف ترین تجارتی مرکز قرطبہ چوک، فیروز پور روڈ پر ایل پی جی ڈیلر مافیا، ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں رکشہ ڈرائیوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے شہر کی انتظامیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

مظاہرے کی قیادت صدر ملی رکشہ یونین پاکستان رانا شمشاد، صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ تحصیل سٹی معاذ اشتیاق، ترجمان لاہور عبدالحنان اور جنرل سیکرٹری حافظ انعام نے کی۔ مظاہرین نے حکومت اور اوگرا سے مطالبہ کیا کہ غریبوں کا معاشی استحصال کرنے والے گیس مافیا کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اوگرا نرخ نامہ بمقابلہ بلیک مارکیٹ: ہوسٹنگ اور منافع خوری کے حقائق

مقررین نے پریس کانفرنس اور احتجاج کے دوران گیس کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا فرق کے اعداد و شمار میڈیا کے سامنے پیش کیے:

اوگرا کا سرکاری نرخ: 241 روپے فی کلوگرام

مارکیٹ میں فروخت کی قیمت: 450 سے 500 روپے فی کلوگرام

اضافی وصولی: 100 فیصد سے زائد زائد رقم صارفین سے بٹوری جا رہی ہے

اہم نقطہ: ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی مبینہ غفلت کے باعث منافع خور سرعام اوگرا کی گیس قیمتوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، جس کا سارا بوجھ رکشہ ڈرائیور برادری اور عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی ناکامی پر تنقید اور پنجاب بھر میں احتجاج کی دھمکی

ملی رکشہ یونین کے رہنماؤں نے ضلعی پرائس کنٹرول سسٹم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاہور میں مافیا انتظامی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب زبانی یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔

لاہور میں ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار، ملی رکشہ یونین کا مظاہرہ

بلاامتیاز کارروائی: سرکاری ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی کرنے والے تمام ڈیلرز کے خلاف فوری مقدمات درج کیے جائیں اور دکانیں سیل کی جائیں۔

سرکاری ریٹ پر فراہمی: لاہور کے تمام علاقوں میں 241 روپے فی کلو کے حساب سے ایل پی جی کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

سخت سزائیں: مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ہول سیلرز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

رہنماؤں نے اپنے خطاب کے آخر میں وارننگ دی کہ اگر رکشہ ڈرائیوروں کو ریلیف نہ ملا تو اس احتجاج کا دائرہ کار لاہور سے بڑھا کر پورے پنجاب تک پھیلا دیا جائے گا، جس کے بعد پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی