اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے بااختیار تعاون سے گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی اصلاحات، سمارٹ ریگولیشنز اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث سال 2025 میں پاکستان کے شعبہ صحت کا مجموعی منافع 78 فیصد اضافے کے ساتھ 42.2 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ان انقلابی اقدامات کا مقصد ملک میں عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ اور پاکستان کو خطے میں 'میڈیکل ٹورازم' کا مرکز بنانا ہے۔
نیشنل پالیسیز کی منظوری اور ویکسین کی مقامی تیاری
شعبہ صحت کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وفاقی کابینہ نے نیشنل ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب پاکستان میں عالمی معیار کے مطابق ویکسینز کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو سکے گی۔
مزید برآں، ملک بھر میں محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنانے اور پلازما کی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ ان اقدامات سے ہیلتھ کیئر سسٹم پر عوام اور عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ترقی اور DRAP کو عالمی اعزاز
پاکستان کے دواسازی (Pharma) کے شعبے میں دو اہم ترین کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں:
ادویات کی دستیابی میں بہتری: عام استعمال کی ضروری ادویات کی قیمتوں کے نظام میں نرمی (Deregulation) کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ سے ادویات کی قلت کا خاتمہ ہوا ہے اور بلیک مارکیٹنگ کا راستہ روکا گیا ہے۔
ڈریپ (DRAP) کو عالمی منظوری: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی 'سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب' کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے منظور کر لیا ہے۔ اس تاریخی سنگِ میل سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی ادویات کی ساکھ اور برآمدات (Exports) میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ہیلتھ ٹیک، ٹیلی میڈیسن اور میڈیکل ٹورازم کا فروغ
سرمایہ کاری کے حوالے سے SIFC نے پاکستان کو میڈیکل ٹورازم کا مرکز بنانے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک پلان لانچ کیا ہے، تاکہ بیرون ملک سے مریض عالمی معیار کے سستے علاج کے لیے پاکستان کا رخ کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ ٹیک (HealthTech) کے شعبے میں نئے اسٹارٹ اپس، آن لائن علاج (Telemedicine) اور بلا تعطل غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے کھول دیے گئے ہیں۔ حال ہی میں SIFC کے زیر اہتمام 'پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز' کی 30 ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس کا کامیاب انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے پاکستانی ڈاکٹروں کی مہارت کو عالمی سطح پر روشناس کروایا۔