پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے کے آئندہ مالیاتی بجٹ کی اہم تجاویز کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں مزدور کی کم سے کم اجرت بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی اہم سفارش بھی بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور امن و امان کو بجٹ میں اولین ترجیح دی ہے۔ امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ریکارڈ 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ گڈ گورننس کے اقدامات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحت اور تعلیم کے لیے تاریخی فنڈز کی فراہمی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق شعبہ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کے بنیادی ستون ہیں۔ بجٹ میں کیے گئے اہم اعلانات درج ذیل ہیں:
تعلیم اور صحت کا مجموعی بجٹ: تعلیم کے شعبے کے لیے 468 ارب روپے اور صحت کے شعبے کے لیے 334 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
صحت کارڈ اور ہسپتال: مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے 'صحت کارڈ' کے لیے 50 ارب روپے، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے 14 ارب روپے، جبکہ ایم ٹی آئی (MTI) ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پشاور میں نئے جنرل ہسپتال کے قیام کے لیے 4 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
ابتدائی و ثانوی تعلیم: اسکولوں کی بہتری اور ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 10 ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں، جبکہ 14 نئے کالجز کے قیام کے لیے 36 کروڑ 20 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
پشاور کی ترقی، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر
صوبائی دارالحکومت کی رونقیں بحال کرنے اور سفری سہولیات کو جدید بنانے کے لیے بڑے اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں:
پشاور بحالی پروگرام: شہر کی خوبصورتی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے 36 ارب روپے مختص۔
سڑکیں اور ٹرانسپورٹ: صوبے بھر میں سڑکوں کی بہتری کے لیے 52 ارب روپے، ٹرانسپورٹ نظام کے لیے 14 ارب روپے، جبکہ پشاور بی آر ٹی (BRT) کے لیے 7.5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
ریسکیو 1122: ایمرجنسی سروسز کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے 2.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سماجی بہبود، نوجوان اور کسان پروگرام
وزیراعلیٰ نے معاشرے کے پسماندہ طبقات اور نوجوانوں کے لیے خصوصی ریلیف کا اعلان کیا ہے:
احساس اور زکوٰۃ پروگرام: احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے، جبکہ زکوٰۃ و عشر کے نظام اور مستحقین کی امداد کے لیے 28 ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور انٹرن شپ: نوجوانوں کے لیے 1.5 ارب روپے کا انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ بیرون ملک ملازمت یا تعلیم کے لیے جانے والے نوجوانوں کے لیے 2 ارب روپے کے قرضے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، ضم شدہ اضلاع کے 'احساس نوجوان پروگرام' کے لیے 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
محیطی تحفظ اور گرین انرجی: ماحول دوست اقدامات کے تحت الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی فراہمی کے لیے 2.5 ارب روپے، جبکہ تحفظِ ماحولیات کے لیے 98.99 ملین روپے مختص ہیں۔
دیگر شعبہ جات: زراعت کے لیے 29 ارب، توانائی کے لیے 42 ارب، بلدیات کے لیے 90 ارب اور داخلہ امور کے لیے 29 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ کسان پروگرام کے لیے 2 ارب، اقلیتوں کے لیے 51 ملین اور خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 25 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں