تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

ایران وینزویلا نہیں ہے‘: ٹرمپ کا ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کی کوششوں میں شدید مشکلات کا اعتراف

ایران وینزویلا نہیں ہے‘: ٹرمپ کا ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کی کوششوں میں شدید مشکلات کا اعتراف

 امریکی صدر کا انکشاف: ایران میں طویل فوجی قیام اور بھاری آلات کی ایئر لفٹ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے درمیان واضح فرق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو براہِ راست قبضے میں لینے کا منصوبہ وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک تھا۔

ایران کے زیرِ زمین جوہری مراکز میں موجود مواد کو نکالنے کی اسٹریٹجک کوششوں پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے ابتدائی طور پر زمینی آپریشن سے گریز کیوں کیا، کیونکہ وہاں لاجسٹکس اور سکیورٹی کے شدید خطرات لاحق تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا: "ہم نے [ایران کا یورینیم قبضے میں لینے کے] منصوبے پر غور کیا تھا، لیکن میں ایسی پوزیشن میں نہیں آنا چاہتا تھا جہاں ہمیں لازمی اندر داخل ہونا پڑے۔ یہ وینزویلا کی طرح نہیں ہے جہاں ہم اندر جائیں، چند منٹ رکیں، اور پھر باہر نکل آئیں اور واپسی کی پرواز پر وہ ہمیں الوداع کہہ رہے ہوں۔"

جنگی زون میں بھاری آلات کی منتقلی کا بڑا چیلنج

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے پہاڑی اور تباہ شدہ جوہری ملبے سے انتہائی افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے جس بڑے پیمانے پر مشینری کی ضرورت تھی، اس نے اس آپریشن کو انتہائی پرخطر بنا دیا تھا۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نے اس نوعیت کی لاجسٹک تفصیلات شیئر کی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران اور وینزویلا کے موازنے میں درج ذیل چیلنجز پر روشنی ڈالی:

طویل قیام کی ضرورت: اس آپریشن کے لیے امریکی افواج کو ایک سے دو ہفتوں تک فعال جنگی زون کے اندر قیام کرنا پڑنا تھا۔

بھاری آلات کی ایئر لفٹنگ: جوہری ملبے کو ہٹانے کے لیے بہت بڑے اور بھاری آلات کو فضائی راستے سے دشمن کے علاقے میں منتقل کرنا ضروری تھا۔

نگرانی کا نظام (Surveillance): ٹرمپ کے مطابق، اس کارروائی پر ابتدائی دور میں اس لیے غور کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت ایرانی فورسز کے پاس جدید ترین نگرانی کا نظام موجود نہیں تھا۔

فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کی طرف پیش رفت

امریکی صدر کے اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ یکطرفہ فوجی آپریشن کی بھاری لاگت کے باعث اب واشنگٹن نے حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ اب عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور تہران کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت اس مواد کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ وہاں سے ہٹایا جا سکے۔