امریکی صدر کا انکشاف: ایران میں طویل فوجی قیام اور بھاری آلات کی ایئر لفٹ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے درمیان واضح فرق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو براہِ راست قبضے میں لینے کا منصوبہ وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک تھا۔
ایران کے زیرِ زمین جوہری مراکز میں موجود مواد کو نکالنے کی اسٹریٹجک کوششوں پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے ابتدائی طور پر زمینی آپریشن سے گریز کیوں کیا، کیونکہ وہاں لاجسٹکس اور سکیورٹی کے شدید خطرات لاحق تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا: "ہم نے [ایران کا یورینیم قبضے میں لینے کے] منصوبے پر غور کیا تھا، لیکن میں ایسی پوزیشن میں نہیں آنا چاہتا تھا جہاں ہمیں لازمی اندر داخل ہونا پڑے۔ یہ وینزویلا کی طرح نہیں ہے جہاں ہم اندر جائیں، چند منٹ رکیں، اور پھر باہر نکل آئیں اور واپسی کی پرواز پر وہ ہمیں الوداع کہہ رہے ہوں۔"
جنگی زون میں بھاری آلات کی منتقلی کا بڑا چیلنج
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے پہاڑی اور تباہ شدہ جوہری ملبے سے انتہائی افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے جس بڑے پیمانے پر مشینری کی ضرورت تھی، اس نے اس آپریشن کو انتہائی پرخطر بنا دیا تھا۔ فروری 2026 میں شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نے اس نوعیت کی لاجسٹک تفصیلات شیئر کی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران اور وینزویلا کے موازنے میں درج ذیل چیلنجز پر روشنی ڈالی:
طویل قیام کی ضرورت: اس آپریشن کے لیے امریکی افواج کو ایک سے دو ہفتوں تک فعال جنگی زون کے اندر قیام کرنا پڑنا تھا۔
بھاری آلات کی ایئر لفٹنگ: جوہری ملبے کو ہٹانے کے لیے بہت بڑے اور بھاری آلات کو فضائی راستے سے دشمن کے علاقے میں منتقل کرنا ضروری تھا۔
نگرانی کا نظام (Surveillance): ٹرمپ کے مطابق، اس کارروائی پر ابتدائی دور میں اس لیے غور کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت ایرانی فورسز کے پاس جدید ترین نگرانی کا نظام موجود نہیں تھا۔
فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کی طرف پیش رفت
امریکی صدر کے اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ یکطرفہ فوجی آپریشن کی بھاری لاگت کے باعث اب واشنگٹن نے حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ اب عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اور تہران کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت اس مواد کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ وہاں سے ہٹایا جا سکے۔