اسرائیل ایران تنازعے پر بھارتی خارجہ پالیسی کا دوغلا پن عیاں

اسرائیل ایران تنازعے پر بھارتی خارجہ پالیسی کا دوغلا پن عیاں

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

جنگ کے دوران خاموشی اور اب تجارتی مفادات کے لیے تہران سے دوبارہ قربت پر عالمی مبصرین کی کڑی تنقید

​نئی دہلی / تہران: اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ شدید فوجی کشیدگی کے بعد بھارتی خارجہ پالیسی کا روایتی موقع پرستانہ چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے اصولی سیاست کے بجائے خالصتاً اپنے معاشی، توانائی اور دفاعی مفادات کے تحت پینترے بدلے ہیں، جو اس کی منافقانہ خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔

​بھارتی خبر رساں ایجنسی 'اے این آئی' (ANI) کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر کو ٹیلی فون کیا اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے تمام تنازعات کو جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

جنگ سے قبل اسرائیل کا دورہ اور دورانِ جنگ معنی خیز خاموشی

​عالمی مبصرین نے مودی حکومت کے حالیہ اقدامات کے ٹائم لائن پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفاد پرستی کی اعلیٰ ترین مثال قرار دیا ہے:

​حملے سے دو روز قبل دورہ: اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے سے محض دو روز قبل نریندر مودی نے تل ابیب کا دورہ کر کے اسرائیل کے ساتھ اپنی گہری سٹرٹیجک شراکت داری کا مظاہرہ کیا۔

​خود مختاری پر خاموشی: ایران پر حملوں کے دوران بھارت نے اسرائیل کی کھلی حمایت کی اور ایران کی خودمختاری پر ہونے والے حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کرنے سے مکمل گریز کیا۔

​تیل کی خاطر دوبارہ دوستی: جیسے ہی جنگ بندی ہوئی اور حالات معمول پر آنے لگے، مودی حکومت نے اپنی توانائی کی ضروریات اور سستے تیل کے حصول کے لیے دوبارہ تہران سے پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔

آبنائے ہرمز اور بھارتی تجارتی مفادات کا تحفظ

​ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران مودی نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری راستوں کے تحفظ اور آزادانہ جہاز رانی کو عالمی اور بھارتی مفاد قرار دیا۔

​ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی کا معاملہ پہلے ہی ایران امریکہ 14 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے۔ اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق، مودی کا اس اہم بحری راستے پر زور دینا ایران کی کسی اخلاقی یا سفارتی حمایت کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف بھارتی معیشت، تیل کی بلا تعطل رسد اور تجارتی سامان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

​"بھارت ماضی میں امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایرانی تیل کی خریداری مکمل طور پر ترک کر چکا تھا،" ایک بین الاقوامی تجزیہ کار نے مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کہا۔ "اس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے مفادات کے سامنے نئی دہلی کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ضرورت پڑنے پر اپنے اتحادیوں کو تنہا چھوڑ سکتا ہے۔"

بھارتی خارجہ پالیسی کے چند اہم ترین تضادات

​اسرائیل کی پشت پناہی: حملوں کے دوران بھارت کا جھکاؤ مکمل طور پر تل ابیب کی طرف رہا۔

​اصولوں کی قربانی: جنگ سے پہلے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا، دورانِ جنگ خاموش تماشائی بننا اور جنگ کے بعد تیل کی خاطر ایران کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھارتی ڈپلومیسی کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔