رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کو ایسے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی چین کا حصہ بن رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی دفاعی پیداوار اور برآمدات بعض اسرائیلی عسکری ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اس کو ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل اور نظریاتی اتحاد کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مبینہ خفیہ دستاویزات اور دفاعی تجارت
تحقیقات کے مطابق رپورٹ میں 91 سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون اور عسکری مصنوعات کی ترسیل سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق:
- بھارت کو اسرائیل کا ایک بڑا دفاعی سپلائر قرار دیا گیا ہے۔
- دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی ساختہ مصنوعات اسرائیل کی فوجی درآمدات کا ایک نمایاں حصہ بنتی ہیں۔
- بعض بھارتی دفاعی کمپنیوں کے اسرائیلی دفاعی اداروں کے ساتھ مبینہ تجارتی روابط کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں Rafael Advanced Defense Systems بھی شامل ہے۔
مبینہ صنعتی و عسکری ترسیلات
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مشترکہ منصوبوں کے ذریعے بڑی مقدار میں عسکری اجزاء اور گولہ بارود کی ترسیل ہوئی، جن میں توپ خانے سے متعلق سامان بھی شامل بتایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھارتی دفاعی صنعت سے منسلک ادارے جیسے Kalyani Group کے حوالے سے بھی بعض ترسیلات اور معاہدوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
تجزیہ اور مؤقف
تحقیق میں یہ مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات عالمی جیوپولیٹیکل صورتحال پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام نکات رپورٹ اور مبینہ دستاویزات کے دعووں پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔