بلوچستان خبر

فتنہ الہندستان بلوچستان کی ترقی کا دشمن، بھارت دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے.

فتنہ الہندستان بلوچستان کی ترقی کا دشمن، بھارت دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے.

*اسلام آباد:* اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا کے ساتھ اہم نشست میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی، ترقیاتی منصوبوں، ریکوڈک، افغانستان اور انسداد دہشت گردی آپریشنز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔


بلوچستان میں دہشت گردی اور پروپیگنڈا


سیکیورٹی ذرائع کے مطابق *فتنہ الہندستان (بی ایل اے)* ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کی مبینہ سرپرستی بھارت اور بعض بیرونی عناصر کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف عناصر بلوچستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


بریفنگ میں کہا گیا کہ ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور ترویج سوشل میڈیا اور بیرونی پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جا رہی ہے، تاہم یہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔


سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں *32 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور شاہراہوں پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت* ہوتی ہے، لیکن دہشت گرد بعض اوقات چند گاڑیوں کو نشانہ بنا کر حالات کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


خواتین کے استعمال سے متعلق دعویٰ


سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے خواتین کو استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں، جو اسلامی تعلیمات اور بلوچ روایات کے منافی ہے۔ ان کے مطابق اس طرز عمل کے باعث بلوچستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔


### ریکوڈک اور معدنی منصوبوں کی اہمیت


بریفنگ میں کہا گیا کہ *ریکوڈک اور دیگر معدنی منصوبے بلوچستان کی معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں*۔ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور سرمایہ کاری صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔


ذرائع کے مطابق قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد صرف ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پروسیسنگ، برآمدات اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے پورے صوبے اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے۔


افغانستان اور دہشت گردی پر مؤقف


افغانستان سے متعلق بریفنگ میں سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف *32 ہزار 92 آپریشنز* کیے گئے۔


ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل افغان حکام کے ساتھ سفارتی رابطے میں رہا ہے اور بارہا مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔


سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام سفارتی رابطے شفاف اور باضابطہ رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دی گئی۔


قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف عزم


بریفنگ میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور قومی سلامتی، عوام کے تحفظ اور بلوچستان سمیت ملک بھر کی ترقی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔