کابل / لندن: افغانستان میں جاری انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں طالبان حکومت کے دوران معاشی بدانتظامی، مہنگائی، بے روزگاری اور خوراک کی شدید قلت نے لاکھوں شہریوں کو انتہائی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس اور مبصرین کے مطابق بنیادی سہولیات کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد خوراک، علاج اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہو رہی ہے۔
بی بی سی رپورٹ: قحط اور غربت کی خوفناک صورتحال
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں افغانستان کی زمینی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید غربت اور خوراک کی کمی کے باعث بعض خاندان انتہائی مجبوری میں اپنے بچوں کو فروخت کرنے جیسے اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں تاکہ کھانے پینے کا انتظام کیا جا سکے۔
اسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے سرکاری اسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی شدید کمی ہے، جبکہ مریضوں کے اہلِ خانہ کو علاج اور ادویات کے لیے نجی مارکیٹ سے مہنگے داموں سامان خریدنا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی وارننگ
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے تین افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تقریباً 47 لاکھ افغان شہری قحط کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ بے روزگاری، کمزور معیشت اور ناقص طبی نظام نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کا موجودہ بحران صرف بیرونی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ حکومتی ناکامیوں اور ناقص پالیسیوں کا بھی عکاس ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت داخلی پالیسیوں، انتظامی کمزوریوں اور عالمی تنہائی کے باعث افغانستان عالمی مالیاتی نظام سے تقریباً کٹ چکا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔