کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے دوران مختص کردہ ترقیاتی فنڈز کا 115 فیصد ریکارڈ استعمال کر کے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ اجلاس کے دوران اس تاریخی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ فنڈز کے بروقت اور شفاف استعمال نے صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز ترین کر دیا ہے۔
H2: ماضی کے مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی
ماضی کے ریکارڈ کے برعکس، موجودہ حکومت نے فنڈز کو منجمد ہونے سے بچا کر ترقیاتی کاموں پر لگایا۔ ماضی کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
2021-22: 53 فیصد فنڈز استعمال ہوئے
2022-23: 66 فیصد فنڈز استعمال ہوئے
2023-24: 55 فیصد فنڈز استعمال ہوئے
2024-25: 99 فیصد فنڈز استعمال ہوئے
2025-26 (موجودہ سال): 115 فیصد تاریخی استعمال
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کی سخت مانیٹرنگ اور گائیڈنس کی بدولت میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سال کے آخر تک 2,966 جاری اور نئے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
H2: ترقیاتی بجٹ (PSDP) کے اہم خدوخال
مالی سال 2025-26 کا مجموعی ترقیاتی بجٹ (PSDP) 249 ارب روپے رہا، جسے پائیدار ترقی کے قومی اور عالمی اہداف (SDGs) کے مطابق ترتیب دیا گیا۔
شاہراہوں کی تعمیر: صوبائی روابط بڑھانے کے لیے 57 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
سوشل پروٹیکشن (سماجی تحفظ): غریب عوام کی فلاح کے لیے 35 ارب روپے مختص۔
تعلیم اور صحت: تعلیمی شعبے کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے جس سے 3,000 سرکاری اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کیے گئے۔ ہیلتھ سیکٹر کے لیے 16 ارب روپے دیے گئے، جن میں سے 2 ارب روپے سے 164 غیر فعال بنیادی ہیلتھ یونٹس (BHUs) کو دوبارہ بحال کیا گیا۔
گرین پاکستان انیشیٹو: جنوبی بلوچستان میں سولر ٹیوب ویلوں کے ذریعے 21,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کیا گیا، اور 513 خاندانوں میں 1.9 ارب روپے کے آسان قرضے تقسیم کیے گئے۔
H2: محکمہ خزانہ میں ڈیجیٹل اصلاحات: اے آئی بھرتی اور 'فنانس جی پی ٹی'
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے محکمہ خزانہ میں انقلابی ڈیجیٹل اصلاحات کا اعلان کیا:
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی بھرتیاں: سفارش اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنے کے لیے پہلی بار اے آئی ٹیکنالوجی کے تحت صرف ایک دن میں میرٹ پر بھرتیاں کی گئیں، جس سے نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوا۔
فنانس جی پی ٹی (Finance GPT): مالیاتی امور اور ڈیٹا مینجمنٹ کو جدید بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسسٹنٹ 'فنانس جی پی ٹی' اور فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (FMIS) متعارف کرایا گیا۔
کیش لیس اکانومی اور آن لائن بلنگ: پینشن کے نظام کو مکمل طور پر خودکار (Automated) کر دیا گیا اور پیپر لیس گورننس کے لیے آن لائن بلنگ شروع کی گئی۔
وزیر خزانہ نے عزم ظاہر کیا کہ مالی مشکلات کے باوجود حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے ایک متوازن بجٹ تیار کیا ہے جس میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کر کے تمام اضلاع میں فنڈز کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔