گوادر کو ایک محفوظ اور 'اسمارٹ سٹی' میں تبدیل کرنے کے لیے جاری سیف سٹی منصوبے پر کام کی رفتار تیز کر دی گئی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر بابا داد اللہ کے مطابق، شہر کے مختلف مصروف مقامات پر ٹاورز اور پولز نصب کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد اگلے مرحلے میں جدید کیمروں کی تنصیب شروع ہوگی۔
منصوبے کی تفصیلات اور لاگت
اس تاریخی منصوبے کی کل لاگت تقریباً ساڑھے سات ارب روپے ہے، جس کے تحت گوادر کے 135 اہم مقامات پر 760 کیمرے لگائے جائیں گے۔ یہ نظام 145 اسکوائر کلومیٹر کے وسیع رقبے کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
منصوبے میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، بشمول چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، مشکوک افراد کی فوری نشاندہی کے لیے کی جائے گی۔ ٹریفک مینجمنٹ اور جرائم کی روک تھام کے لیے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ شناخت کا سسٹم بنایا جائے گا۔تھرمل اور ہائی ریزولوشن کیمرے: رات کے وقت اور خراب موسم میں بھی واضح نگرانی کے لیے انسٹال کیے جائیں گے۔
سولر پاور بیک اپ: بجلی کے تعطل کے باوجود نظام کو فعال رکھنے کے لیے۔
سی پیک اور معاشی اہمیت
سی پیک کے تناظر میں یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ چینی ماہرین، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنا کر بین الاقوامی اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گا۔ مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے شہر کی سرگرمیوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی، جس سے ایمرجنسی رسپانس اور امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔