کراچی: چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ نے کراچی کے دورے کے دوران سرمایہ کاروں، لاجسٹکس انڈسٹری اور شپنگ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز سے اہم ملاقاتیں کیں، جس میں گوادر پورٹ کی آپریشنل سرگرمیوں اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی تجارتی راہداریوں پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پی آئی ایف ایف اے (PIFFA) ہیڈ آفس میں اہم مشاورتی اجلاس
چیئرمین گوادر پورٹ نے پی آئی ایف ایف اے کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اجلاس میں سابق صدر گوادر چیمبر فیصل دشتی، پی آئی ایف ایف اے کے عہدیداران شیراز قریشی، بلال الرحمن، بابر دادا بھائی اور پورٹ حکام نے شرکت کی۔
کنٹینرائزڈ تجارت اور جدید ٹرمینلز کی ضرورت
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی تجارت کا 90 سے 95 فیصد حصہ اب کنٹینرز پر مشتمل ہے، لہٰذا گوادر پورٹ کو جدید کنٹینر ٹرمینلز اور فیڈر سروسز کے ذریعے فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسٹیک ہولڈرز نے مطالبہ کیا کہ:
حکومت صرف دعووں تک محدود نہ رہے بلکہ گوادر کو ایک مربوط ٹرانسپورٹ سسٹم سے منسلک کرے۔
ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کے مواقع کو فوری طور پر بروئے کار لایا جائے۔
سیکیورٹی خدشات اور معاشی حقائق
سابق صدر گوادر چیمبر فیصل دشتی نے سیکیورٹی کے حوالے سے پھیلے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ سینکڑوں ایل پی جی ٹینکرز اور پیٹرولیم مصنوعات کی گاڑیاں گوادر سے ملک بھر میں پرامن طریقے سے سفر کرتی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ:
گزشتہ سال گوادر بارڈر نے حکومتِ پاکستان کو 54.5 ارب روپے کا ریونیو کما کر دیا، جو اس خطے میں جاری تجارتی سرگرمیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔