گرین پاکستان انیشیٹو کی سہولت کاری سے سبز انقلاب
اسلام آباد — گرین پاکستان انیشیٹو (GPI) کے تعاون سے ملک بھر میں جدید کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے غیر آباد اور بنجر زمینوں کو تیزی سے قابلِ کاشت بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لینڈ ریفارمز (زرعی اصلاحات) نے نجی کارپوریٹ گروپس کو دیہی معیشت کی بحالی میں بھرپور حصہ لینے اور بڑی سرمایہ کاری کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
اسی سلسلے میں 'ٹیکنو ایگری اینڈ فوڈز' نے خوشاب اور میانوالی کے قریبی علاقوں میں 950 ایکڑ اراضی پر جدید کارپوریٹ فارمنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سنٹرل پیوٹ کا استعمال
اس پائلٹ پراجیکٹ میں روایتی طریقوں کے بجائے عالمی معیار کی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ بنجر زمین سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
روڈز گراس کی کاشت: منصوبے کے تحت 260 ایکڑ کے بلاک میں جدید ترین 'سنٹرل پیوٹ' (مرکزی گھومنے والے فواروں) کے ذریعے روڈز گراس کاشت کی جا رہی ہے۔
قیمتی زرمبادلہ کا حصول: اس مخصوص گھاس کو بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد (export) کیا جائے گا، جس سے پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
پائلٹ پراجیکٹ کا دائرہ کار اور 5 ہزار ایکڑ تک توسیع کا منصوبہ
ٹیکنو ایگری اینڈ فوڈز کے نمائندے ارسلان الاوالہ نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف پاکستان کی بنجر زمینوں کو آباد کر کے دنیا کے جدید زرعی ممالک کا مقابلہ کرنا ہے۔
اہم ہدف: موجودہ 950 ایکڑ کے پائلٹ منصوبے کو کامیابی کے بعد اگلے مرحلے میں 5 ہزار ایکڑ اور اس سے آگے تک توسیع دی جائے گی۔
ارسلان الاوالہ کا مزید کہنا تھا کہ گرین پاکستان انیشیٹو نے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے جو راہیں ہموار کی ہیں، وہ مستقبل قریب میں پاکستان کی زرعی اور دیہی معیشت میں انقلابی ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ) کا سبب بنے گا۔