اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ کے لیے میڈیکل نشستوں کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع نظام تشکیل دینے پر کام کر رہی ہے۔
سینیٹ میں سوالات کے وقفے کے دوران جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ برسوں سے جاری ہے کیونکہ اس حوالے سے کوئی مستقل اور طویل المدتی میکانزم موجود نہیں تھا۔
وزیر صحت کے مطابق 2017-18 اور 2018-19 میں 194 نشستیں مختص کی گئیں، تاہم 2019 سے 2023 کے دوران کوئی نشست فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں 2023-24 میں 333 نشستیں مختص کی گئیں اور موجودہ حکومت نے 2024-25 میں بھی یہی تعداد برقرار رکھی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا، جہاں عدالت نے ایک سال کے لیے 194 نشستیں فراہم کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بعد ازاں فیصلہ کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 333 نشستوں کا مستقل نظام قائم کیا جائے تاکہ ہر سال اس مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارتِ صحت اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے صوبائی حکومتوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بارہا خطوط لکھے گئے ہیں تاکہ اجازت نامے اور باقاعدہ منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بار بار رابطوں کے باوجود صوبائی حکام کی جانب سے اس معاملے میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لی گئی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی حکومت دونوں صوبوں کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے تاکہ انسپکشن اور دیگر ضروری مراحل جلد مکمل کر کے نشستوں کو باقاعدہ منظور کیا جا سکے اور طلبہ کو آئندہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔