تازہ ترین
ترقی کے سفر پر بزدلانہ وار۔۔ غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملہ اور بلوچستان کی محرومی کا اصل ذمہ دار کون؟ محرم الحرام: کمشنر کوئٹہ کا سیکیورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات کے فول پروف انتظامات کا حکم بلوچستان میں خواتین اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے عالمی شراکت داری ضروری، اسپیکر اسمبلی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کا نیا رخ؛ پاکستان کے ذریعے امریکا ایران مذاکرات، ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا انگلینڈ-بھارت ٹی ٹوئنٹی سیریز: میچز کے اوقات کار میں تبدیلی پاکستان خواتین کے دو انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گا شاہین شاہ آفریدی ٹیسٹ کیمپ سے باہر، وائٹ بال اسکواڈ میں شامل ثنا نواز کی نئی فیشن مہم سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی جاوید جعفری کی اہلیہ سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں روپے کے فراڈ کا شکار انیس بزمی نے ’نو انٹری 2‘ میں تاخیر کی وجہ بتا دی کنگنا رناوت نے فلموں میں خواتین کی پیشکش پر سوالات اٹھا دیے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی,بلوچ روایت کے چہرے پر سیاہ داغ افغان طالبان رجیم کا خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن؛ لباس کی آڑ میں جبری گرفتاریاں، عالمی برادری سراپا احتجاج اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال، معیشت استحکام کی جانب گامزن
بلوچستان خبر

بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے

بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے

کیا عالمی سیاست کے ترازو میں معصوموں کے خون اور جلی ہوئی لاشوں کا کوئی وزن نہیں ہوتا؟ بلوچستان کے سلگتے ہوئے میدانوں سے اٹھنے والے جنازے اور دہشت گردی کے دلخراش مناظر کیا دنیا کی بڑی طاقتوں کو دکھائی نہیں دیتے ؟ پاکستان اور چین کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش کیے جانے کے باوجود، عالمی سطح پر دہشت گردوں کے سہولت کار اور ان کے حامی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ سفارتی دباؤ اور عالمی طاقتوں کا دہرا معیاربلوچستان خبر کی اس تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندی کمیٹی میں پاکستان اور چین نے ایک مشترکہ درخواست دائر کی تھی ۔ اس درخواست کا مقصد معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تنظیموں 'بلوچ لبریشن آرمی' اور اس کے فدائی یونٹ 'مجید بریگیڈ' کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کروانا تھا ۔ اگر یہ پابندی لگ جاتی، تو بین الاقوامی سطح پر ان کے اثاثے منجمد کر دیے جاتے اور ان کی نقل و حرکت پر سخت ترین قدغنیں عائد ہو جاتیں۔

لیکن افسوس! دہشت گردوں کے عالمی سرپرستوں اور حامی ممالک نے اس راہ میں روڑے اٹکا دیے ۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے 'ٹیکنیکل ہولڈ' یعنی تکنیکی اعتراضات کا سہارا لے کر اس اہم ترین انسدادِ دہشت گردی تجویز کو روک دیا ہے اور مزید شواہد کا مطالبہ کر دیا ہے۔

عالمی طاقتوں کا یہ 'تکنیکی وقفہ' دراصل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب بات پاکستان کے امن اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں (جیسے سی پیک اور گوادر) کو سبوتاژ کرنے کی ہو، تو بین الاقوامی فورمز پر زمینی حقائق سے نظریں چرا لی جاتی ہیں۔

معصوموں کا لہو اور عالمی خاموشی 

عالمی طاقتوں اور دہشت گردوں کے ان سفارتی سہولت کاروں کو نہ تو بلوچستان میں اٹھنے والے معصوموں کے جنازے نظر آتے ہیں، اور نہ ہی ان ماؤں کے آنسو جو اپنوں کی لاشوں پر بین کرتی ہیں۔ انہیں مجید بریگیڈ کے خودکش حملوں میں لقمہ اجل بننے والے بے گناہ پاکستانی اور چینی شہری دکھائی نہیں دیتے۔ سلامتی کونسل کے ان مستقل ارکان کے لیے شاید معصوم بچوں کا قتل اور دہشت گردی کی ہولناکی محض ایک 'سیاسی و تاریخی مسئلہ' ہے، جسے وہ اپنے مفادات کی عینک سے دیکھتے ہیں ۔ حالانکہ یہی امریکہ خود اگست 2025 میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو اپنی ملکی سطح پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے ، مگر جب بات اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی پابندی کی آئی، تو معیار یکسر بدل گئے ۔ بی ایل اے کا نوآبادیاتی بیانیہ اور حقائقدوسری جانب، ان تنظیموں کا بیانیہ دیکھیں تو وہ خود کو کسی بیرونی سند کا محتاج نہیں سمجھتیں اور اپنی مسلح کارروائیوں کو 'قومی غیرت کا اظہار' قرار دیتی ہیں ۔ عالمی طاقتوں کے اس حالیہ فیصلے کو بی ایل اے نے اپنے حق میں ایک سفارتی فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جہاں وہ عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پرتشدد کارروائیوں کو تاریخ کا تسلسل بتاتے ہیں۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بھی سیاسی یا تاریخی پس منظر کی آڑ میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ 

پاکستان اور چین کے لیے یہ پیش رفت یقیناً ایک سفارتی دھچکا ہے ۔ اب دونوں ممالک کو عالمی برادری کے سامنے ان تنظیموں کے بین الاقوامی نیٹ ورکس اور دہشت گردی کے ناقابلِ تردید قانونی شواہد مزید سختی سے پیش کرنے ہوں گے ۔ لیکن بلوچستان کے پہاڑوں سے اٹھتی ہوئی ہوا آج دنیا سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے: "کیا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ صرف چند مخصوص ملکوں کے مفادات تک محدود ہے، یا بلوچستان کے امن اور وہاں کے معصوم انسانوں کے جینے کا حق بھی اس دنیا کی ترجیحات میں شامل ہے؟"