کوئٹہ: اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش سماجی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون اور مؤثر رابطہ انتہائی ضروری ہے۔
یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی میں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت ڈپٹی نمائندہ ڈاکٹر گلنارا کدیرکولووا اور پروگرام کوآرڈینیٹر سعدیہ عطا نے کی، جبکہ سیکرٹری پاپولیشن ظفر علی بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات میں صحت، آبادی کی بہبود، خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی ترقی، خاندانی فلاح اور پائیدار ترقی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی آگاہی کے پروگراموں کو وسعت دینے پر زور دیا۔
اس موقع پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی نے کہا کہ خواتین کی صحت، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور خاندانی خوشحالی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات صوبے کے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے وسیع جغرافیے اور محدود وسائل کے باعث منفرد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جہاں متعدد علاقوں میں صحت، تعلیم اور ترقیاتی انفراسٹرکچر کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی معاونت اور شراکت داری سے خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر کمزور طبقات کی زندگیوں میں مثبت اور پائیدار تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ UNFPA بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جاری اپنے فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں کو مزید وسعت دے گا۔
اس موقع پر UNFPA کے وفد نے بھی بلوچستان حکومت اور بلوچستان اسمبلی کے ساتھ زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی بہبود، نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافہ اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے، فلاحی منصوبوں میں شراکت داری بڑھانے اور صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں ترقیاتی پروگراموں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے UNFPA وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلوچستان میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں انہوں نے وفد کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔