بھارتی سفارتی ترجیحات پر عالمی تحفظات، واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار
امریکہ اب بھارت کو اسٹریٹجک partner کے بجائے معاشی حریف کے طور پر دیکھ رہا ہے، بھارتی جریدہ
واشنگٹن / نئی دہلی: ہندوتوا کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور تجارتی تنازعات کے باعث بھارت اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔
بھارتی جریدے اوپن میگزین کے مطابق واشنگٹن کی بھارت سے متعلق حکمت عملی تبدیل ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات اب پہلے جیسے گرم جوش نہیں رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اب بھارت کو محض ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے بجائے ایک ممکنہ معاشی حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔
تناؤ کی بنیادی وجوہات اور اہم واقعات
جریدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ عرصے میں کئی سنگین معاملے سامنے آئے ہیں جن سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے:
گرپتونت سنگھ پنوں کیس: 2024 میں امریکہ نے سکھ رہنما کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر کے خلاف مقدمہ قائم کیا، جس سے دونوں ممالک میں سفارتی کشیدگی بڑھی۔
گوتم اڈانی پر الزامات: امریکہ کی جانب سے بھارتی بزنس ٹائیکون گوتم اڈانی پر فراڈ کے الزامات کو نئی دہلی میں مودی حکومت کے خلاف بالواسطہ اقدام تصور کیا گیا۔
بی جے پی کا بیانیہ: حکمران جماعت بی جے پی نے امریکی اداروں پر بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے من گھڑت بیانیے پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار: امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اہمیت دوبارہ نمایاں ہو رہی ہے، جبکہ اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ: "خصوصی تعلقات محض مفادات تک محدود"
بین الاقوامی امور کے معروف ماہر کانتی باجپائی کا کہنا ہے کہ "امریکہ اور بھارت کے درمیان ماضی کے خصوصی تعلقات اب محض مفادات پر مبنی ایک سرد معاملہ بن چکے ہیں۔"
سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی انتہا پسندانہ داخلی پالیسیاں، دوغلی خارجہ حکمتِ عملی اور مسلسل تجارتی تنازعات نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کو تاریخی حد تک کمزور کر دیا ہے