چمن — قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور محمود خان اچکزئی کے خلاف 29 مئی کو چمن میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق حکام کا مؤقف ہے کہ محمود خان اچکزئی کی تقریر میں ایسے بیانات شامل تھے جنہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکایا اور جلسے کے شرکاء میں بے چینی پیدا کی۔
یہ مقدمہ عبدالولی خان، چیئرمین پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی بلوچستان، کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 153-A، 505، 341، 147، 149 اور 131 شامل کی گئی ہیں، جن کا تعلق دشمنی پھیلانے، امنِ عامہ میں خلل، غیر قانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی اور ریاستی اداروں سے متعلق بیانات سے ہے۔
درخواست کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر تنقید کی تھی۔
دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔
پارٹی کے خیبرپختونخوا صدر عبدالقہار خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے وہی مؤقف دہرایا جو وہ پہلے بھی پارلیمان میں پیش کر چکے ہیں، اور الزام عائد کیا کہ قانونی کارروائی کے ذریعے جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیِ اظہار اور جمہوری اقدار کے خلاف اقدام قرار دیا۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سیاسی کشیدگی میں اضافے اور مزید تقسیم کا سبب بن سکتے ہیں۔
پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مقدمے کو قانونی فورمز پر چیلنج کرے گی۔