تازہ ترین
وزیر داخلہ بلوچستان کا متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی، نامزد ملزمان کی گرفتاری اور محکمانہ کارروائی شروع میر ضیاء اللہ لانگو کی کوئٹہ میں متاثرہ خاندان سے ملاقات، تعزیت اور فاتحہ خوانی پڑوسیوں کے تنگ کرنے پر بچوں کے قتل اور خودکشی کا افسوس ناک واقعہ، بلوچستان حکومت کا بڑا ایکشن، نامزد ملزم معطل وفاقی بجٹ 27-2026: وسائل کی تقسیم پر وفاق اور صوبوں میں ڈیڈ لاک، بجٹ پیشی میں تاخیر کا امکان جب تیزاب چہرہ جلاتا ہے تو قوم کی روح بھی جھلس جاتی ہے عالمی اور مقامی مارکیٹ میں تیزی؛ 3 دن کے وقفے کے بعد سونا اور چاندی مہنگےکراچی ترقی کے سفر پر بزدلانہ وار۔۔ غازی انٹرپرائزز کے کیمپ پر حملہ اور بلوچستان کی محرومی کا اصل ذمہ دار کون؟ محرم الحرام: کمشنر کوئٹہ کا سیکیورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات کے فول پروف انتظامات کا حکم بلوچستان میں خواتین اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے عالمی شراکت داری ضروری، اسپیکر اسمبلی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کا نیا رخ؛ پاکستان کے ذریعے امریکا ایران مذاکرات، ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا انگلینڈ-بھارت ٹی ٹوئنٹی سیریز: میچز کے اوقات کار میں تبدیلی پاکستان خواتین کے دو انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گا شاہین شاہ آفریدی ٹیسٹ کیمپ سے باہر، وائٹ بال اسکواڈ میں شامل ثنا نواز کی نئی فیشن مہم سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی جاوید جعفری کی اہلیہ سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں روپے کے فراڈ کا شکار
بلوچستان خبر

وفاقی بجٹ 27-2026: وسائل کی تقسیم پر وفاق اور صوبوں میں ڈیڈ لاک، بجٹ پیشی میں تاخیر کا امکان

وفاقی بجٹ 27-2026: وسائل کی تقسیم پر وفاق اور صوبوں میں ڈیڈ لاک، بجٹ پیشی میں تاخیر کا امکان


وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم وفاق اور صوبوں کے درمیان قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) کے فارمولے پر سنگین اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس تعطل کے باعث آئندہ مالی سال کے بجٹ کی پیشی میں مزید تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

وفاق کا صوبوں سے 1200 ارب روپے اضافی وسائل کا مطالبہ

مرکزی حکومت نے صوبوں سے تقریباً 1,200 ارب روپے کے اضافی وسائل وفاق کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن صوبائی حکومتیں اپنے حصے میں کسی بھی قسم کی کمی پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں اطراف میں مذاکرات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اتفاقِ رائے قائم ہونے کی صورت میں وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

این ایف سی فارمولا اور صوبائی حصوں کا تقابل

وفاقی حکومت صوبوں کو مجموعی طور پر 8,200 ارب روپے منتقل کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا آئینی حصہ تقریباً 9,400 ارب روپے بنتا ہے۔

وفاق کی جانب سے صوبوں کو اپنے حصے سے دستبردار ہونے کے لیے جو مطالبات کیے گئے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

پنجاب: 650 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ

سندھ: 300 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ

خیبرپختونخوا: 180 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ

بلوچستان: 110 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ

سندھ کے ترقیاتی بجٹ پر اہم پیشرفت اور وفاقی مؤقف

ان اختلافات کے باوجود، سندھ کے ترقیاتی بجٹ کو 50 ارب روپے سے بڑھا کر 62 ارب روپے کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب، وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبوں سے مانگے گئے اضافی وسائل ملکی دفاع، قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور مہنگائی کے شکار عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔

آئینی شرط: این ایف سی ایوارڈ کے طے شدہ فارمولے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے باقاعدہ قانون سازی یا پھر تمام صوبوں کی مکمل رضامندی اور دستخط لازمی ہیں۔