وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، تاہم وفاق اور صوبوں کے درمیان قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) کے فارمولے پر سنگین اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس تعطل کے باعث آئندہ مالی سال کے بجٹ کی پیشی میں مزید تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
وفاق کا صوبوں سے 1200 ارب روپے اضافی وسائل کا مطالبہ
مرکزی حکومت نے صوبوں سے تقریباً 1,200 ارب روپے کے اضافی وسائل وفاق کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن صوبائی حکومتیں اپنے حصے میں کسی بھی قسم کی کمی پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے دونوں اطراف میں مذاکرات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اتفاقِ رائے قائم ہونے کی صورت میں وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
این ایف سی فارمولا اور صوبائی حصوں کا تقابل
وفاقی حکومت صوبوں کو مجموعی طور پر 8,200 ارب روپے منتقل کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا آئینی حصہ تقریباً 9,400 ارب روپے بنتا ہے۔
وفاق کی جانب سے صوبوں کو اپنے حصے سے دستبردار ہونے کے لیے جو مطالبات کیے گئے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
پنجاب: 650 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ
سندھ: 300 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ
خیبرپختونخوا: 180 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ
بلوچستان: 110 ارب روپے چھوڑنے کا مطالبہ
سندھ کے ترقیاتی بجٹ پر اہم پیشرفت اور وفاقی مؤقف
ان اختلافات کے باوجود، سندھ کے ترقیاتی بجٹ کو 50 ارب روپے سے بڑھا کر 62 ارب روپے کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبوں سے مانگے گئے اضافی وسائل ملکی دفاع، قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور مہنگائی کے شکار عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔
آئینی شرط: این ایف سی ایوارڈ کے طے شدہ فارمولے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کے لیے باقاعدہ قانون سازی یا پھر تمام صوبوں کی مکمل رضامندی اور دستخط لازمی ہیں۔