پاکستان کے توانائی شعبے میں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری

پاکستان کے توانائی شعبے میں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد — پاکستان کے انرجی سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چین کے معروف شینڈونگ گروپ نے پاکستان کے شعبہ توانائی میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی باقاعدہ تجویز پیش کر دی ہے۔

یہ پیشکش شینڈونگ گروپ، چین کے چیئرمین ہاؤ جیان شِن نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ایک اہم ملاقات کے دوران کہی۔ چینی وفد نے پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے، ڈرلنگ اور فیلڈ آپٹیمائزیشن میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

ریفائنری اپ گریڈیشن اور مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تجویز

وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چینی گروپ نے پاکستان کے ڈاؤن اسٹریم اور اپ اسٹریم انرجی سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

ایف سی سی یونٹ کی تنصیب: پاکستانی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور جدید تکنیکی یونٹس (FCC) کی تنصیب۔

مقامی مینوفیکچرنگ سہولت: پاکستان میں توانائی کے جدید آلات بنانے کی فیکٹری کا قیام، جس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں کو بھی برآمدات کے لیے ہدف بنایا جائے گا۔

آف شور انرجی اور انرجی سٹیز: سمندری حدود (آف شور) میں تیل و گیس کی تلاش، سلفر پروسیسنگ پلانٹس اور خصوصی 'انرجی سیٹیز' کا قیام۔

پاک-چین تعاون میں نئے باب کا آغاز، حکومتی عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے چینی کمپنی کی تمام تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے موقع پر ہی پیٹرولیم ڈویژن کو چینی کمپنی کی تجاویز پر فوری عملدرآمد کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی کی سرمایہ کاری کی یہ پیشکشیں پاکستان کی توانائی کی خود کفالت اور معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔ اس اقدام سے پاک-چین اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہوگا