دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل، امریکہ

دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل، امریکہ

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

​واشنگٹن — امریکی محکمہ خارجہ نے ایک انتہائی اہم اور باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے قانونی حق کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے حقِ دفاع کی اس عالمی توثیق کے بعد، دہشتگردوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے پر پڑوسی افغان طالبان رجیم کو شدید سفارتی ہزیمت کا سامنا ہے۔

​بین الاقوامی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ، پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف اس کی دفاعی کارروائیوں اور سیکیورٹی اقدامات کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

پاکستانی عوام اور افواج کی بے پناہ قربانیوں کا اعتراف

​امریکی انتظامیہ نے دہشتگردی کی لہر کے خلاف جنگ میں پاکستانی شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے غیر معمولی جانی و مالی نقصان کا اعتراف کیا ہے۔

​عوام کا بے پناہ نقصان: امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ "پاکستان کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں"۔

​مضبوط عسکری شراکت داری: واضح رہے کہ امریکہ اس سے قبل بھی پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی میں اپنا اہم ترین شراکت دار قرار دے چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سابق سربراہ جنرل مائیکل کوریلا بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کوششوں کی کھل کر تعریف کر چکے ہیں۔

'آپریشن غضب للحق' اور عالمی قوانین کے تحت کارروائی

​یہ اہم امریکی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے حالیہ دہشتگردانہ حملوں کے بعد آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

​ماہرین کی رائے: بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، کراچی میں رینجرز تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملوں کے علاوہ ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے افغان سرزمین مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔

​موجودہ صورتحال میں عسکری قیادت کا عزم غیر متزلزل ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان کے تمام سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ حالیہ بیان دہشتگردی کے خلاف عالمی محاذ پر پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دیتا ہے۔