طالبان رجیم کی پالیسیوں سے پیدا بحران اور افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ

طالبان رجیم کی پالیسیوں سے پیدا بحران اور افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ

Jun 29, 2026|ویب ڈیسک

​کابل — طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں، اندرونی اختلافات اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے افغانستان کو ایک بار پھر شدید داخلی انتشار اور خانہ جنگی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صوبہ بدخشاں میں سابق ڈپٹی گورنر اور باغی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے طالبان قیادت کے ساتھ سنگین اختلافات کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جس نے اب ایک باقاعدہ عسکری اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔

بدخشاں میں جنگی تیاریاں اور عسکری صف بندی

​معروف افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق، بدخشاں میں طالبان رجیم کے خلاف باغی کمانڈر جمعہ خان فاتح کی عسکری صف بندی اور جنگی تیاریاں اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ کمانڈر جمعہ خان نے نہ صرف اپنے مسلح جنگجوؤں کو منظم کرنا شروع کر دیا ہے، بلکہ انہوں نے عبوری حکومت کے خلاف عوامی اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے مقامی عمائدین کے ساتھ مشاورتی عمل بھی تیز کر دیا ہے۔

​طالبان رجیم کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں، مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت اور نئے اعلیٰ سرکاری عہدوں کی پیشکشوں کو کمانڈر جمعہ خان نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومتی ڈھانچے میں کسی بھی حیثیت میں واپسی سے صاف انکار کر دیا ہے۔

​اہم ترین نقطہ: کمانڈر جمعہ خان فاتح نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے فوجی اور لاجسٹک دونوں لحاظ سے مکمل طور پر تیار کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بدخشاں کا دشوار گزار اور پہاڑی علاقہ جمعہ خان کی فورسز کو اسٹریٹجک برتری فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے طالبان رجیم کے لیے ان کے خلاف کوئی بھی فوجی آپریشن کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔

طالبان کے خلاف ابھرتی ہوئی مسلح تحریکیں

​عالمی مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، افغان طالبان کی بدترین آمرانہ طرزِ حکومت اور قومی وسائل پر قبضے کی پالیسی نے خود طالبان کی صفوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ عوام دشمن اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی نے ملک میں کئی نئی اسلحہ بردار تحریکوں کو جنم دیا ہے۔

​اس وقت افغان طالبان رجیم کو درج ذیل فعال مسلح تحریکوں کی مزاحمت کا سامنا ہے:

​نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF)

​افغان فریڈم فرنٹ (AFF)

​افغان گرین ٹرینڈ (AGT)

​جمعہ خان فاتح کی نئی مسلح تحریک

​بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی آزادی پسند اور مسلح تحریکیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام طالبان کی سخت گیر رجیم سے سخت تنگ آ چکے ہیں، اور یہ اندرونی تقسیم ملک کو ایک طویل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے