کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف بلوچستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبے کا 70 فیصد سے زائد رقبہ خشک اور نیم خشک علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال دو سے تین میٹر تک کم ہو رہی ہے، جو آبی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے مطابق بلوچستان میں جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جو عالمی معیار کے مطابق تجویز کردہ 25 فیصد سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے شجرکاری مہمات کے فروغ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی پالیسی متعارف کرائی ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں:
- وسیع پیمانے پر شجرکاری مہمات
- چیک ڈیمز کی تعمیر
- سنگل یوز پلاسٹک بیگز پر پابندی
شامل ہیں۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے شہریوں، خصوصاً طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ "کلین اینڈ گرین بلوچستان" مہم میں بھرپور حصہ لیں اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور پائیدار ماحولیاتی طرزِ عمل اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔