تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

کرائسٹ چرچ حملہ کیس، برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد

کرائسٹ چرچ حملہ کیس، برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد

ویلنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کی عدالت نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے میں 51 افراد کو شہید کرنے والے آسٹریلوی شدت پسند برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مجرم کی جانب سے سزا ختم کرنے کی کوشش بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی قانونی حیثیت نہیں پائی جاتی۔ عدالت کے مطابق ملزم نے جرم کا اعتراف اپنی مرضی سے کیا تھا اور اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔یاد رہے کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ میں واقع النور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹر پر فائرنگ کے واقعے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 افراد شہید ہوئے تھے، جسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ قرار دیا جاتا ہے۔ملزم کو اگست 2020 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں پیرول یا رہائی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں اس نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ قید اس کے حالات غیر انسانی تھے جس کی وجہ سے وہ درست فیصلے کے قابل نہیں تھا، تاہم عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا۔عدالت نے کہا کہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مکمل طور پر ذمہ دار تھا اور اس کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جبکہ ماہرین اور جیل حکام کی رپورٹس بھی اس کے دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔دوسری جانب متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کے وکلا نے اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں دوبارہ مقدمے کے ذہنی دباؤ سے نجات ملی ہے۔