بلوچستان میں نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے RISE پروگرام کا جائزہ
کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں نوجوانوں، پسماندہ طبقات اور کم ترقی یافتہ علاقوں کو معاشی مواقع اور فنی تربیت فراہم کرنے کے لیے جاری فلیگ شپ “رائز پروگرام” (RISE Program) کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سینئر حکام اور پروگرام نمائندگان نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو باعزت روزگار، جدید مہارتیں اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائز پروگرام بے روزگاری میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ صوبے میں پائیدار ترقی، امن اور خوشحالی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت پنجگور، خاران، واشک، گوادر، آواران اور کیچ/تربت سمیت دور دراز اور پسماندہ اضلاع کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اس پروگرام سے ہزاروں نوجوان فنی تربیت، مالی معاونت، چھوٹے کاروبار کے فروغ اور استحکام کے مختلف منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ امن، سماجی ہم آہنگی اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف اضلاع میں سیمینارز منعقد کیے جا چکے ہیں جن میں خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کمیونٹی اور مقامی سطح کی تنظیموں کو مضبوط بنانے کے لیے گرانٹس بھی فراہم کی گئی ہیں۔
پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لیے مطالعاتی دورے، آگاہی مہمات، کھیلوں کی سرگرمیاں اور سماجی ہم آہنگی کے مختلف پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ فنی و پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے مستحق افراد کی بھی مدد جاری ہے۔
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ صوبے کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں اور انہیں ترقی اور کامیابی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔