وزیراعلیٰ بلوچستان کا جیل اصلاحات اور قیدیوں کی بحالی کے لیے اقدامات کا عزم
نظام انصاف کو شفاف بنانے کے لیے قیدیوں کی فنی تربیت اور بنیادی حقوق کا تحفظ ناگزیر قرار
کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ صوبے کے نظامِ انصاف میں قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور جیل اصلاحات کے ذریعے ہی پورے عدالتی نظام کو مزید شفاف اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔
قیدیوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کا ہدف
وزیراعظم سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں کو محض سزا گاہ بنانے کے بجائے اصلاح خانوں میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں جن کی بدولت سزا کاٹ کر نکلنے والے افراد جرائم کی دنیا چھوڑ کر معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
"قیدیوں کی اصلاح، ذہنی بحالی اور ان کا معاشرے میں دوبارہ باعزت مقام حاصل کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے،" وزیراعلیٰ بلوچستان کا خطبہ۔
فنی تربیت، تعلیم اور ذہنی بحالی کا جامع منصوبہ
صوبائی حکومت نے جیلوں کے اندر اصلاحاتی ایجنڈے کو تیز کرنے کے لیے درج ذیل ترجیحات کا خاکہ پیش کیا ہے:
فنی و تکنیکی تعلیم: قیدیوں کو مختلف ہنر سکھانے کے لیے فنی تربیت کے کورسز کا آغاز۔
تعلیمی سہولیات کا فروغ: جیل مینوئل کے تحت قیدیوں کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور کرنا۔
ذہنی نشوونما اور کاؤنسلنگ: قیدیوں کی نفسیاتی اور ذہنی بحالی کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا۔