آسٹریلوی حکومت نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے تین سرکردہ رہنماؤں کو انسدادِ دہشتگردی کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے سخت مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد تنظیم کی آپریٹنگ صلاحیت کو مفلوج کرنا اور انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ سینیٹر پینی وونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نئی پابندیوں کے تحت فہرست میں شامل کسی بھی فرد یا تنظیم کے اثاثوں سے لین دین کرنا یا انہیں کسی بھی قسم کی مالی سہولت فراہم کرنا سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ 10 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سینیٹر پینی وونگ نے واضح کیا کہ آسٹریلیا دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے اور ان کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جاری مہم اور انتہاپسندی کے سدِباب کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔