کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں متعدد بلوچ خاندانوں نے مبینہ طور پر شدت پسند سرگرمیوں اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں ملوث اپنے رشتہ داروں سے عوامی سطح پر لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ریاست پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔
مختلف پریس کانفرنسوں اور عوامی بیانات کے دوران والدین اور قریبی رشتہ داروں نے واضح کیا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں اور مسلح کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتے اور ان میں ملوث افراد کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
لسبیلہ، گوادر اور تربت میں عوامی بیانات
لسبیلہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون شدت پسند سانیا کے والد نے اپنی بیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے مبینہ روابط اور سرگرمیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔
اسی طرح پنجگور، گوادر، تربت اور کوئٹہ کے مختلف شہریوں نے بھی اپنے لاپتہ رشتہ داروں کے حوالے سے بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کالعدم تنظیموں یا مسلح گروہوں سے وابستہ پائے گئے تو خاندان ان کی سرگرمیوں کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
تربت کے ایک شہری نے کہا:
"میرا بھائی چھ ماہ قبل روزگار کی تلاش کے بہانے گھر سے گیا تھا۔ اگر وہ کسی مسلح تنظیم کے ساتھ پایا جاتا ہے تو اس کے اعمال کی ذمہ داری خاندان پر عائد نہیں ہوگی۔"
ایک اور والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر چھوڑ کر شدت پسندوں کے کیمپوں میں شامل ہو گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اس سے تمام تعلقات ختم کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بدلتی ہوئی صورتحال
علاقائی امور پر نظر رکھنے والے بعض سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عوامی اعلانات بلوچستان میں بدلتی ہوئی سماجی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان کے عوام کی اکثریت امن، استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کی حامی ہے، جبکہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوششیں خطے کی ترقی اور امن کو متاثر کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں جاری معاشی اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنے سے امن و استحکام کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔