تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان 90 منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور یوکرین پر اہم گفتگو

پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان 90 منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور یوکرین پر اہم گفتگو

ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک)روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور یوکرین تنازع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔کریملن کے نمائندے یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو 90 منٹ سے زائد جاری رہی، جو ان کے بقول خوشگوار اور کاروباری نوعیت کی تھی۔اوشاکوف نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ایران اور خلیج فارس کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ روسی صدر پوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکرات کے لیے ایک اور موقع پیدا ہوا ہے اور خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے نہ صرف ایران اور خطے بلکہ عالمی برادری پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کریملن کے مطابق پوٹن نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ روس مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔