کوئٹہ: بلوچستان کی بڑی شاہراہوں پر خواتین کے لیے سڑک کنارے واش رومز کی شدید کمی کے باعث مسافرات کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، جس نے جاری روڈ نیٹ ورک کی توسیع کے باوجود بنیادی عوامی سہولیات کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گوادر، تربت، کوئٹہ، کراچی اور تفتان کو ملانے والے اہم راستوں پر سفر کرنے والی خواتین کو محفوظ، صاف اور قابلِ استعمال واش رومز کی عدم دستیابی کے باعث شدید دشواری اور صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوادر اور تربت کے درمیان چلنے والی بسیں اکثر ایسے مقامات پر رکتی ہیں جہاں مرد مسافروں کے لیے محدود سہولیات یا کھلے مقامات موجود ہوتے ہیں، تاہم خواتین مسافر ایسی جگہوں پر مناسب سہولت نہ ہونے کے باعث گاڑیوں کے اندر ہی رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
نتیجتاً کئی خواتین طویل سفر کے دوران پانی کا استعمال کم کر دیتی ہیں تاکہ انہیں واش روم کی ضرورت کم پیش آئے، خاص طور پر ان راستوں پر جہاں سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ بلوچستان کے وسیع جغرافیے اور بڑھتے ہوئے شاہراہی نظام کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ صوبہ اہم ٹرانسپورٹ راہداریوں سے منسلک ہے جن میں ایم فائیو موٹروے (رتوڈیرو سے گوادر)، این زیرو ٹین ساحلی شاہراہ، این پچیس آر سی ڈی شاہراہ (کوئٹہ سے کراچی) اور این فورٹی شاہراہ (کوئٹہ سے تفتان) شامل ہیں۔
اگرچہ ان شاہراہوں کو معاشی ترقی، علاقائی رابطے اور تجارتی توسیع کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن بنیادی عوامی سہولیات کی کمی خواتین کے سفری تجربے کو متاثر کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق شاہراہوں پر صنفی لحاظ سے موزوں آرام گاہوں، صاف واش رومز، پینے کے پانی اور محفوظ انتظار گاہوں کی فراہمی سے سفر کے حالات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور خواتین و خاندانوں کے لیے محفوظ اور آرام دہ سفر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ شاہراہی منصوبوں میں لازمی بنیادی سہولیات کو شامل کیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں۔