حج کیا ہے؟ حج کے ارکان اور مکمل مرحلہ وار رہنمائی
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ یہ عظیم عبادت اسلامی مہینے ذوالحج کی 8 سے 12 تاریخ تک مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ادا کی جاتی ہے۔
1۔ احرام باندھنا — حج کا آغاز
احرام روحانی پاکیزگی اور مساوات کی علامت ہے۔
مردوں کے لیے:
- دو سفید بغیر سلے کپڑے
- ایک تہبند کی طرح
- دوسرا اوپر اوڑھنے کے لیے
خواتین کے لیے:
- سادہ اور ڈھیلا لباس
- چہرہ اور ہاتھ کھلے رہیں گے
احرام پہننے کے بعد نیت کی جاتی ہے اور تلبیہ پڑھا جاتا ہے:
لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک
احرام کے بعد خوشبو، ناخن کاٹنا، شکار اور بال کاٹنا ممنوع ہو جاتا ہے۔
2۔ 8 ذوالحج — منیٰ روانگی
5
8 ذوالحج کو حجاج مکہ سے منیٰ روانہ ہوتے ہیں۔
وہاں:
- ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر ادا کی جاتی ہیں
- چار رکعت والی نمازیں قصر کی جاتی ہیں
- عبادت، دعا اور تلاوتِ قرآن میں وقت گزارا جاتا ہے
3۔ 9 ذوالحج — وقوفِ عرفات
6
وقوفِ عرفات حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔
حجاج:
- میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں
- دعا، استغفار اور عبادت کرتے ہیں
- ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا کرتے ہیں
غروبِ آفتاب کے بعد بغیر مغرب پڑھے مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں۔
مزدلفہ میں:
- مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کی جاتی ہیں
- کھلے آسمان تلے رات گزاری جاتی ہے
- کنکریاں جمع کی جاتی ہیں
4۔ 10 ذوالحج — رمی، قربانی اور طواف
4
یہ حج کا سب سے مصروف دن ہوتا ہے۔
اہم ارکان:
رمی جمرات
بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
قربانی
اللہ کی رضا کے لیے جانور قربان کیا جاتا ہے۔
حلق یا قصر
- مرد سر منڈواتے یا بال چھوٹے کرواتے ہیں
- خواتین بالوں کے سروں سے تھوڑا حصہ کاٹتی ہیں
اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
طوافِ زیارت اور سعی
- خانہ کعبہ کا طواف
- صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر
5۔ 11 اور 12 ذوالحج — ایامِ تشریق
ان دنوں میں حجاج:
- تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں
- عبادت اور دعا میں وقت گزارتے ہیں
6۔ طوافِ وداع — حج کا اختتام
6
مکہ مکرمہ سے روانگی سے پہلے حجاج آخری طواف کرتے ہیں جسے طوافِ وداع کہا جاتا ہے