تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید، شوہر اور بچہ زخمی
تربت: بلوچستان کے ضلع تربت میں ڈیوٹی پر جاتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شہید جبکہ ان کے شوہر اور کمسن بچہ شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے پر تشویش
اس واقعے کو بلوچستان میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ عوامی تحفظ کے فرائض انجام دے رہی تھیں اور ان پر حملے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خواتین کی پیشہ ورانہ خدمات پر حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
بلوچستانی روایات کے خلاف اقدام
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ روایات اور ثقافتی اقدار کے بھی خلاف ہے، جہاں خواتین کے احترام اور تحفظ کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔
عوامی ردعمل اور مذمت
واقعے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ شہریوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
امن و امان کے قیام کے عزم کا اعادہ
حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان پولیس اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔