تربت میں شدید گرمی اور بجلی کے سنگین بحران نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود، ایکسپریس فیڈر پر وولٹیج 100 سے بھی کم رہنے کے باعث برقی آلات ناکارہ ہو کر رہ گئے ہیں۔
کم وولٹیج اور تپتی گرمی: شہریوں کی مشکلات میں اضافہ
حالیہ رپورٹ کے مطابق، تربت کے مختلف علاقوں میں سارا دن بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔ ایکسپریس فیڈر، جس سے بلاتعطل سپلائی کی توقع کی جاتی ہے، وہاں بھی رات کے وقت وولٹیج کی سطح 100 سے نیچے گر جاتی ہے۔ اس صورتحال میں پنکھے اور ایئر کولر چلنا ناممکن ہو گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بیماروں، بزرگوں اور معصوم بچوں پر پڑ رہا ہے۔
ڈینگی کا خطرہ اور مچھروں کی یلغار
علاقے میں ڈینگی کے کیسز سامنے آنے کے بعد طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی حفاظتی تدابیر میں بڑی رکاوٹ ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مچھروں کے باعث رات بھر سونا محال ہے، جس سے نہ صرف ذہنی اذیت پہنچ رہی ہے بلکہ وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
تربت کے مکینوں نے متعلقہ حکام اور کیسکو (QESCO) انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کم وولٹیج اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو اس دہری اذیت سے نجات مل سکے۔