بھارتی ریاست گجرات میں 3 مساجد اور متعدد مزارات مسمار

بھارتی ریاست گجرات میں 3 مساجد اور متعدد مزارات مسمار

Jul 1, 2026|ویب ڈیسک

مودی حکومت کا ہندوتوا ایجنڈا: ضلع کچھ میں بغیر نوٹس مسلم عبادت گاہیں ڈھانے پر شدید عوامی احتجاج

گاندھی نگر — بھارت میں برسرِاقتدار مودی حکومت کی سرپرستی میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔ بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچھ (Kutch) میں انتظامیہ نے گزشتہ چند روز کے دوران مسلم کمیونٹی کو نشانہ بناتے ہوئے 3 تاریخی مساجد اور متعدد مزارات کو یکسر مسمار کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔


بھارتی جریدے ہندوستان گزٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کی ریاستی حکومت کے زیرِ اثر بلدیاتی انتظامیہ نے مسماری کی اس متنازع کارروائی سے قبل متاثرہ مساجد اور مزارات کی انتظامیہ یا مقامی رہائشیوں کو کوئی پیشگی قانونی نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔


وضاحت مانگنے پر سنگین دھمکیاں اور احتجاجی مظاہرین پر کریک ڈاؤن

مساجد اور مزارات کو گرائے جانے کے اچانک حکومتی اقدام پر جب مقامی مسلمانوں نے سیکیورٹی فورسز اور انتظامیہ سے وضاحت طلب کرنے کی کوشش کی، تو انہیں سنگین نتائج اور مزید قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں۔


مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مسماری کے خلاف جب مسلم برادری کے نوجوانوں نے پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا، تو پولیس نے ریاستی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے کریک ڈاؤن کیا۔ حکام نے احتجاجی مظاہرے میں شامل 25 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کر کے فوری طور پر جیل منتقل کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔


"مودی حکومت ہندوتوا کے متعصبانہ اور نفرت انگیز نظریہ کے غلبہ کے لیے سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے، جہاں اقلیتوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کی کھلی پامالی اب ایک معمول بن چکی ہے۔"


کچھ (گجرات) صورتحال کے اہم ترین نکات:

بغیر نوٹس کارروائی: انتظامیہ نے قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 3 مساجد اور متعدد مزارات کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا۔


مسلمان نوجوانوں کی قید: ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے 25 مقامی نوجوانوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔


شناخت مٹانے کی کوشش: انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں مسلمانوں کی تاریخ اور مذہبی شناخت کو مٹانے کے منظم ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں پر شدید تشویش

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے سب سے بڑے ادارے ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے بھارت کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومتی مشینری کو اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کیا جا سکے۔


عالمی مبصرین اور ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا ایجنڈے پر سختی سے کاربند ہے، اور مساجد و مزارات پر یہ حالیہ حملے دراصل بھارت کے سیکولر تشخص کو ختم کر کے اسے ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں