شکاگو: باکسنگ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے محمد علی کو دنیا سے رخصت ہوئے 10 سال مکمل ہو گئے، تاہم ان کی شاندار کامیابیاں اور انسان دوستی پر مبنی نظریات آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں 61 مقابلوں میں حصہ لیا، جن میں سے 56 میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 1964 میں نامور باکسر سونی لسٹن کو شکست دے کر عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت حاصل کی۔بعد ازاں انہوں نے جارج فورمین کو ناک آؤٹ کرکے 32 سال کی عمر میں عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف میں عالمی باکسنگ کونسل نے انہیں ’’کنگ آف باکسنگ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔محمد علی نے 1964 میں اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کیا۔ وہ صرف ایک عظیم کھلاڑی ہی نہیں بلکہ اپنے اصولی مؤقف، جرأت اور انسانیت سے محبت کے باعث بھی دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔1967 میں انہوں نے ویتنام جنگ میں شرکت سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں ان سے عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل واپس لے لیا گیا اور کچھ عرصے کے لیے باکسنگ سے دور کر دیا گیا۔ تاہم ان کے ثابت قدم مؤقف نے انہیں انسانی حقوق اور انصاف کی جدوجہد کی ایک نمایاں علامت بنا دیا۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ پارکنسن کا شکار رہے، لیکن بیماری بھی ان کے عزم، حوصلے اور انسان دوستی کے جذبے کو کمزور نہ کر سکی۔3 جون 2016 کو محمد علی اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر کھیل، انسانیت اور اصول پسندی کے میدان میں ان کی خدمات آج بھی انہیں امر بنائے ہوئے ہیں۔