نوشکی میں تعلیمی ادارے پر بزدلانہ حملہ: علم کے معمار لہو لہو
نوشکی: غلام رسول کی رپورٹ:
گورنمنٹ بوائز ہائی سکول جمالدینی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے بلوچستان کو سوگوار کر دیا ہے۔ نامعلوم مسلح افراد نے سکول کی لائبریری میں گھس کر اس وقت فائرنگ کی جب وہاں پی ٹی سی ایم سی (PTCMC) کا اہم اجلاس جاری تھا۔
جانی نقصان اور جی ٹی اے کا ردِعمل
اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں معزز استاد اکرم صاحب اور کمیٹی ممبر حق نواز جمالدینی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (جی ٹی اے) نوشکی نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز قرار دیا ہے۔
امن کے گہواروں میں عدم تحفظ کا احساس
جی ٹی اے نوشکی کے اعلامیے کے مطابق، یہ واقعہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو شعور اور امن کا درس دیا جاتا ہے، وہاں اس طرح کی خونریزی طلباء کی ذہنی اور نفسیاتی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرے گی۔
حکومت اور انتظامیہ سے فوری مطالبات
اساتذہ تنظیم نے حکومتِ بلوچستان، ڈپٹی کمشنر نوشکی، اور ایس پی نوشکی مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کر کے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
ضلع بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں فول پروف سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔اورشہداء کے پسماندگان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تعلیم پر حملہ، مستقبل پر حملہ
جی ٹی اے نوشکی کا موقف ہے کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان پر حملہ دراصل روشن مستقبل پر حملہ ہے۔ تنظیم نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اساتذہ اور طلباء کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔