اسلام آباد: پاکستان کی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر ڈیجیٹل اکانومی، ٹیکنالوجی تعاون اور دوطرفہ سرمایہ کاری کے نئے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان میں اپنے “آئی بی آئی ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر” کا افتتاح کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی اقتصادی معاہدوں کے عملی نفاذ کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یہ منصوبہ اسپیشل ٹیکنالوجی زون (STZ) کے اندر واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے گزشتہ سال دورۂ چین کے دوران شروع ہونے والے اسٹریٹجک مشاورت کے نتائج اب عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس پیش رفت کا کریڈٹ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے سفیر برائے چین خلیل ہاشمی نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے ایک بڑی تجارتی پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی SMEs کو تقریباً 31 لاکھ چینی کمپنیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمدات میں اضافہ اور درمیانی واسطوں کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
چینی کمپنی آئی بی آئی کے بانی و سی ای او قیان ژیاوجن نے پاکستان کے سرمایہ کاری نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ SIFC نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تیز، مؤثر اور آسان ماحول فراہم کیا ہے۔
مقامی کاروباری طبقے نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے کاروباری عمل میں بہتری، سرمایہ کاری میں تیزی اور بین الاقوامی شراکت داری کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔