یورپ اور خلیجی ممالک میں نوکری کے سنہرے خواب دیکھنے والے ہزاروں نوجوانوں کے خواب چکنا چور ہو گئے، جبکہ بیرون ملک بھیجے گئے درجنوں نوجوان دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
اکتوبر 2024 میں شروع ہونے والے "چیف منسٹر یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام" کے تحت صوبے کے 3000 ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کے لیے خلیجی ممالک، جرمنی اور رومانیہ بھیجا جانا تھا
وہ منصوبہ جو صوبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا تھا، کھلی کرپشن اور بدانتظامی کا شکار ہو گیا
نیشنل پارٹی کے ایم پی اے رحمت صالح نے اسمبلی میں توجہ دلاو نوٹس میں اسکینڈل پر کئی سوالات اٹھا دیے۔۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ صوبے کا کوئی ڈسٹرکٹ یا ڈویژنل کوٹہ مقرر نہیں کیا گیا
ان کا کہنا تھا کہ ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر بندر بانٹ اس حد تک ہوئی کہ بعض اضلاع سے محض 3 نوجوان منتخب ہوئے جبکہ منظورِ نظر اضلاع سے 40 لڑکوں کو چن لیا گیا تین ہزار میں سے بمشکل 250 نوجوانوں کو سعودی عرب بھیجا گیا، جہاں انہیں کسی مستند کمپنی کے بجائے عام لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
ممبر صوبائی اسمبلی رحمت صالح نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق، یہ نوجوان پردیس میں بھوک سے مر رہے ہیں، ان کے پاس نہ رہائش ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی انتظام ہے۔۔ اسی خراب صورتحال سے تنگ آ کر 70 نوجوان ڈی پورٹ ہو کر پاکستان واپس بھی آ چکے ہیں
دوسری جانب جرمنی اور رومانیہ کے لیے منتخب کیے گئے 1500 لڑکوں میں سے کسی ایک کو بھی تاحال ویزا نہیں مل سکا
ہوش ربا انکشافات کے مطابق ایک کنسلٹنٹ نے کنسلٹنسی کے نام پر فی کس 25 سے 36 لاکھ روپے بٹورے اور 36 نوجوانوں کو سراسر جعلی ورک پرمٹس تھما دیے، لیکن حیرت انگیز طور پر حکومت نے اس کنسلٹنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی
بلوچستان اسمبلی میں اس کھلی کرپشن پر ارکانِ اسمبلی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ ایوان میں وزیر اعلیٰ سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ پروگرام ان کے نام سے منسوب ہے، اس لیے وہ فوری نوٹس لیں، ایک تحقیقاتی کمیٹی بٹھائیں، اور