اسلام آباد – سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات کی سب کمیٹی نے ملک بھر میں میڈیکل داخلوں کے نظام، فیسوں کی شفافیت اور ایم ڈی کیٹ 2026 کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے موجودہ پالیسی فریم ورک پر جامع نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر انوشہ رحمان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور سینیٹر آغا شاہزیب درانی (بذریعہ زوم) نے شرکت کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر یکطرفہ فیصلے طلبہ میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔
بیرونِ ملک طبی تعلیم کے لیے ایم ڈی کیٹ کی شرط: قانونی جواز طلب
سب کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی جانب سے بیرونِ ملک ایم بی بی ایس کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار دینے کے حالیہ اشتہار کا سخت نوٹس لیا۔
"وزارتِ صحت اور پی ایم اینڈ ڈی سی وہ تمام قانونی دستاویزات اور قواعد کمیٹی کے سامنے پیش کریں جن کی بنیاد پر بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والوں پر یہ شرط عائد کی گئی،" کنوینر کمیٹی سینیٹر انوشہ رحمان کی ہدایت۔
پی ایم اینڈ ڈی سی حکام نے موقف اپنایا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو غیر معیاری غیر ملکی اداروں میں داخلے سے روکنا ہے۔ تاہم، کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ محض ایک ٹیسٹ سے غیر معیاری اداروں کی حوصلہ شکنی کیسے ممکن ہے؟ کمیٹی نے استفسار کیا کہ طلبہ اور والدین کی رہنمائی کے لیے غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل کالجوں کی بلیک لسٹ کیوں شائع نہیں کی جاتی؟
میڈیکل کالجوں میں 743 نشستیں خالی، اے لیول کے طلبہ کے مسائل پر تشویش
کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ملک کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں اس وقت 743 نشستیں خالی پڑی ہیں، جو موجودہ پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
اجلاس میں اٹھائے گئے اہم نکات:
اے لیول طلبہ کے ساتھ ناانصافی: ایم ڈی کیٹ کا نصاب انٹرمیڈیٹ کے مطابق ہونے کی وجہ سے اے لیول کے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان میں مہنگی طبی تعلیم: کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم چین جیسے ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگی ہو چکی ہے۔
ڈینٹل ڈگریوں کی عدم قبولیت: حکام نے بتایا کہ زیادہ تر خالی نشستیں ڈینٹل کالجوں میں ہیں۔ کمیٹی نے عالمی سطح پر پاکستانی ڈینٹل ڈگریوں کی عدم قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معیار بہتر بنانے پر زور دیا۔
دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ’عوامی سماعت‘ کا بڑا فیصلہ
سینیٹ سب کمیٹی نے پی ایم اینڈ ڈی سی کے امتحانی فیسوں کی وصولی اور آڈٹ کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ ضابطہ جاتی اقدامات طلبہ کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
میڈیکل داخلوں کے نظام میں یکسانیت اور شفافیت لانے کے لیے، کنوینر سینیٹر انوشہ رحمان نے ایک عوامی سماعت (Public Hearing) منعقد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس عوامی سماعت میں ایم ڈی کیٹ سے متاثرہ طلبہ، طبی ماہرین اور میڈیکل جامعات کے وائس چانسلرز کو مدعو کیا جائے گا تاکہ ایک متفقہ اور مؤثر قانون سازی کی تجاویز مرتب کی جا سکیں۔