پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کا کمانڈر ہلاک
کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے ریاست کی جانب سے فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز پشین کے علاقے شابان میں یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جہاں افغان کمانڈر بصیر ولد نوراللہ کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بصیر سیکیورٹی فورسز پر مختلف حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور شابان کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے گروپوں کی نگرانی کر رہا تھا۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بصیر کے ایک افغان ساتھی کو بھی گرفتار کر لیا۔
حکام نے اس کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 22 فروری کو بھی پشین میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر بصیر کی نگرانی میں کام کر رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن “عزمِ استحکام” کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ آپریشن عزمِ استحکام جون 2024 میں نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد ملک بھر سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔