سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 9 بڑی کمپنیوں کی لسٹنگ؛ سرمایہ کاروں کے ریکارڈ

سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 9 بڑی کمپنیوں کی لسٹنگ؛ سرمایہ کاروں کے ریکارڈ

Jul 1, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد — سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جامع اور مصلحانہ پالیسیوں کے باعث ملک کی کیپیٹل مارکیٹ میں تاریخی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران مینوفیکچرنگ، پیٹرولیم، ڈیری اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کی 9 کمپنیوں نے انیشل پبلک افرنگز (IPOs) کے ذریعے مارکیٹ سے 20 ارب روپے سے زائد کا سرمایہ اکٹھا کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔


ایس ای سی پی نے حالیہ مہینوں میں کمپنیوں کے لیے سرمایہ کے حصول اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے مروجہ طریقہ کار کو انتہائی آسان اور شفاف بنایا ہے، جس سے کاروباری برادری اور عام سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔


مختلف صنعتی شعبوں میں اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری

پبلک لسٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا یہ خطیر سرمایہ ملک میں نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس، زرعی ترقی اور لاجسٹکس نیٹ ورک کی توسیع پر خرچ کیا جا رہا ہے:


سروس لانگ مارچ ٹائرز: پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے اس مشترکہ منصوبے نے جدید کار ٹائر بنانے کا پلانٹ قائم کرنے کے لیے 7.8 ارب روپے کا ریکارڈ سرمایہ حاصل کیا۔


ستارہ پیٹرولیم: آئل اسٹوریج، نئے فیول اسٹیشنز اور اپنے لاجسٹکس نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے مارکیٹ سے 4.83 ارب روپے جمع کیے۔


غنی ڈیریز: لسٹنگ کے ذریعے 3.4 ارب روپے حاصل کر کے مویشیوں کی افزائش، جدید زرعی سہولیات اور قابلِ تجدید توانائی (سولر پروجیکٹس) میں سرمایہ کاری کرنے والی ملک کی پہلی لسٹڈ کمپنی بن گئی۔


پاکستان-قطر تکافل: اسلامی انشورنس کے اس آئی پی او کو مارکیٹ میں غیر معمولی پذیراٰئی ملی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے طے شدہ ہدف سے 21 گنا زیادہ ڈیمانڈ دیکھنے میں آئی اور 13 ہزار سے زائد افراد نے اس میں حصہ لیا۔


وحدت پولٹری: پولٹری فارمز کی ہائی ٹیک توسیع اور پراسیسڈ انڈوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے تقریباً 1 ارب روپے اکٹھے کیے۔

کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے اہم ترین نکات:

آسان لسٹنگ عمل: ایس ای سی پی کی اصلاحات کی بدولت اب نئی کمپنیوں کے لیے پبلک لسٹنگ کا عمل بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک ہو چکا ہے۔


ریئل اسٹیٹ میں عوامی سرمایہ کاری: مارکیٹ میں دو نئے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (REITs) متعارف کروائے گئے ہیں، جس سے عام عوام کے لیے رئیل اسٹیٹ کے منافع بخش منصوبوں میں قانونی اور محفوظ سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔


معاشی تنوع: مینوفیکچرنگ سے لے کر ڈیری اور فنانس تک کے شعبوں کی آمد ملکی معیشت کے وسیع تر پھیلاؤ کی عکاس ہے۔


مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس ای سی پی کی یہ بزنس فرینڈلی اصلاحات پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کو علاقائی سطح پر ایک مستحکم اور پرکشش کارپوریٹ حب بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں