امریکی تحقیقاتی ادارے اور قانون دانوں نے بی جے پی کا ہولناک چہرہ بے نقاب کر دیا
کولکتہ — بھارت کی دوسری بڑی مسلم آبادی والی ریاست مغربی بنگال میں انتہا پسند بی جے پی انتظامیہ کی جانب سے مسلم اقلیت کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ’ہیومن رائٹس ریسرچ سینٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت ’ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اور ڈیپورٹ‘ پالیسی کی آڑ میں معصوم بنگالی مسلمانوں کو بغیر کسی قانونی تصدیق کے سرحد پار دھکیل رہی ہے۔
انسانی حقوق کے معروف وکیل امان ودود کے مطابق، بھارتی حکومت دستاویزات میں معمولی اور املائی غلطیوں کو بہانہ بنا کر مقامی شہریوں کو راتوں رات ’غیر ملکی‘ قرار دے دیتی ہے اور انہیں زبردستی ملک سے نکال دیا جاتا ہے۔
50 ہزار مسلمانوں کی بیدخلی اور ہزاروں گھروں پر بلڈوزر چلانے کا انکشاف
رپورٹ میں مودی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ریاستی جبر کے ہولناک اعداد و شمار سامنے لائے گئے ہیں:
جنگلاتی قوانین کا غلط استعمال: مودی حکومت پرانے جنگل کے قوانین کا سہارا لے کر 50 ہزار سے زائد مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی گھروں سے بے دخل کر رہی ہے۔
بغیر نوٹس گھروں کی مسماری: مغربی بنگال میں بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ہزاروں مسلم خاندانوں کے مکانات کو مسمار کر کے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات میں ڈال دیا گیا ہے۔
شناختی دستاویزات کی بربادی: ہیومن رائٹس ریسرچ سینٹر کے مطابق، مسلمانوں کے شناختی کاغذات زبردستی پھاڑ کر انہیں بندوق کے زور پر بھارت سے باہر نکالا جا رہا ہے۔
اشتعال انگیز بیانات اور سماجی بائیکاٹ کی مہم
جنوبی ایشیائی امور کی محقق ارجنا چٹرجی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے ایک انتہائی جارحانہ اور خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔
"بنگال کے اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری جیسے بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کے مطالبات اور اشتعال انگیز بیانات نے عالمی سطح پر بھارتی قیادت کے سیکولرزم کے جھوٹے پردے کو چاک کر دیا ہے