تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

کوئٹہ دہشت گرد حملہ: چمن پھاٹک خودکش دھماکے میں 14 افراد شہید، متعدد زخمی

کوئٹہ دہشت گرد حملہ: چمن پھاٹک خودکش دھماکے میں 14 افراد شہید، متعدد زخمی

کوئٹہ، بلوچستان کے علاقے چمن پھاٹک میں ریلوے ٹریک کے قریب ایک تباہ کن خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ ایک گنجان آباد شہری علاقے میں ہوا، جس سے قریبی رہائشی گھروں، ایک تجارتی پلازہ اور کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

سیکیورٹی فورسز اور امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

دہشت گردوں کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے پر عوامی غم و غصہ

دھماکے کی شدت سے علاقے کے رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، خصوصاً خواتین اور بچوں میں گہری پریشانی دیکھی گئی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ذوالحجہ کے مقدس ایام جاری ہیں اور عید الاضحیٰ قریب ہے، جس پر عوامی حلقوں نے شدید مذمت کی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین اور مقامی شہریوں نے اس واقعے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد براہ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کے بجائے نہتے شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو نشانہ بنا کر خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:

"حملہ آوروں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کریں، اس لیے وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔"