کوئٹہ — کوئٹہ ضلعی انتظامیہ نے ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی فروخت کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر بھر میں 68 منی پیٹرول پمپس سیل کر دیے جبکہ 52 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بدینی کی ہدایت پر کی گئی، جس کا مقصد بغیر اجازت چلنے والے غیر قانونی فیول کاروبار کو روکنا تھا۔
یہ آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد عامر حمزہ، اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر سریاب مسور احمد اچکزئی، اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ حسیب سردار کی نگرانی میں کیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق کارروائی کے دوران 68 غیر قانونی منی پیٹرول پمپس سیل کیے گئے جبکہ غیر قانونی طور پر پیٹرول کی فروخت میں ملوث 52 افراد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ غیر قانونی فیول ڈیلرز اور منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور قانونی کاروباری نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکایات سامنے آنے کے تقریباً دو ہفتے بعد کارروائی کی گئی۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاخیر کی انکوائری کی جائے اور ان افسران کا احتساب کیا جائے جنہوں نے بروقت کارروائی نہیں کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی فیول تجارت کو روکنے اور صارفین کو استحصال سے بچانے کے لیے کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔