کوئٹہ:سول اسپتال کوئٹہ میں خاتون پی جی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے اندوہناک واقعے کا مرکزی ملزم ہمایوں شاہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملزم کی ہلاکت اور آپریشن کی تفصیلی رپورٹ پر بریفنگ لیتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
وزیر داخلہ کو بتایا گیا کہ لیڈی ڈاکٹر پر حملے کے فوری بعد وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ضلع بھر میں ایک وسیع پیمانے پر سرچ اور کومبنگ آپریشن شروع کر رکھا تھا۔
بس اڈے کے قریب مقابلہ: ملزم کی فائرنگ پر پولیس کی جوابی کارروائی
ابتدائی سرکاری اطلاعات کے مطابق، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران ملزم ہمایوں شاہ کو انٹر سٹی بس اڈے کے قریب ٹریس کیا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق:
"پولیس فورس نے ملزم کو گھیرے میں لے کر فوری طور پر گرفتاری دینے کی ہدایت کی، تاہم ملزم نے قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کے بجائے مبینہ طور پر پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔"
پولیس کی جانب سے دفاع میں کی جانے والی شدید جوابی کارروائی اور فائرنگ کے نتیجے میں ملزم ہمایوں شاہ شدید زخمی ہو گیا، جسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکا۔
اسلحہ اور شواہد برآمد، تحقیقات کا دائرہ وسیع
پولیس حکام نے مقابلے کے فوری بعد جائے وقوعہ کو سیل کر کے فرانزک ٹیموں کو طلب کیا۔ تلاشی کے دوران ہلاک ملزم کے قبضے سے ایک پستول، چار زندہ کارتوس اور فائر کیے گئے دو خول برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے تمام شواہد کو ضابطے کے مطابق قانونی تحویل میں لے لیا ہے جبکہ واقعے کے دیگر پس پردہ پہلوؤں کی قانونی تقاضوں کے مطابق مزید گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں۔
جرائم کے خلاف 'زیرو ٹالرنس' پالیسی برقرار رہے گی: وزیر داخلہ
صوبائی وزیر داخلہ نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری اور بروقت کارروائی کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں بالخصوص خواتین اور ورکنگ کلاس کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ تیزاب گردی جیسے وحشیانہ اور سنگین جرائم کے خلاف صوبے بھر میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو کچل دیا جائے۔